*تقدس کے پردے میں وحشیانہ استحصال: اشوک کھرات، مذہبی ٹھگی اور سماجی احتساب کا سوال*
بقلم: *اسماء جبین فلک*
مہاراشٹر میں اشوک کھرات سے متعلق گردش کرنے والی ویڈیوز، جنسی استحصال کے الزامات اور ان کے گرد پیدا ہونے والی عوامی بے چینی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ جب مذہبی یا روحانی اثر و رسوخ سماجی احتساب سے آزاد ہو جائے تو اس کے نتائج کتنے مہلک ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے کی حقیقت کا آخری تعین عدالت، تفتیشی اداروں اور قابلِ اعتماد شواہد ہی کریں گے، لیکن یہ تنازع اس سے پہلے ہی ہمارے معاشرے کے ایک گہرے زخم کو نمایاں کر چکا ہے کہ تقدس کے نام پر اعتماد کا استحصال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں کسی ایک فرد کا معاملہ ایک بڑے سماجی مسئلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مذہب، روحانیت، کرامت، دربار، دعا، علاج، رہنمائی یا باطنی فیض کے نام پر لوگوں کے ذہن، جسم، جیب اور اختیار پر قبضہ جمانے لگے تو وہ محض ایک مذہبی شخصیت نہیں رہتا، بلکہ طاقت کے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھل جاتا ہے جس کی جانچ صرف عقیدت سے نہیں، قانون اور اخلاقیات سے ہونی چاہیے۔
اس ساری بحث میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی سنجیدہ صحافتی مطالعے کو الزام اور فیصلہ، دعویٰ اور ثبوت، اور شہرت و حقیقت کے درمیان واضح حد قائم رکھنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشوک کھرات جیسے متنازع معاملات کو محض سنسنی خیز رسوائی کے طور پر پیش کرنا صحافت یا رپورٹنگ نہیں، بلکہ عوامی شعور کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر کیا وائرل ہوا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اداروں میں اتنی صلاحیت، غیر جانب داری اور اخلاقی جرأت موجود ہے کہ وہ ایسے بااثر کرداروں کے گرد بنے ہوئے تقدس کے حصار کو توڑ سکیں۔ اکثر ایسے معاملات میں فرد واحد کی مقبولیت، مذہبی مقام یا مقامی اثر و رسوخ اس کے گرد ایک حفاظتی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شکایت کرنے والا خوف زدہ رہتا ہے، گواہ خاموش رہتے ہیں، اور معاشرہ تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔
بھارت کے سماجی ڈھانچے میں مذہبی ٹھگی صرف ایک فوجداری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی اور ثقافتی مسئلہ بھی ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ روحانی سکون، بیماری سے شفا، گھریلو ناچاقی کے حل، رزق میں کشادگی یا ذاتی بحران سے نجات کی امید میں ایسے افراد کے پاس جاتے ہیں جو خود کو غیر معمولی قوتوں کا حامل ظاہر کرتے ہیں۔ یہیں سے طاقت کی وہ غیر رسمی معیشت شروع ہوتی ہے جس میں سوال کی جگہ تسلیم، دلیل کی جگہ عقیدت اور احتساب کی جگہ خاموشی لے لیتی ہے۔ مذہبی ٹھگ اسی خاموشی کو اپنی اصل قوت بناتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک بار کسی شخص نے انہیں روحانی اقتدار مان لیا تو پھر اس کے لیے شک کرنا بھی اخلاقی بغاوت محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی نفسیاتی گرفت سب سے خطرناک ہے، کیونکہ یہ جبر کو رضا مندی کا روپ دے دیتی ہے۔
اشوک کھرات کے حوالے سے جو عوامی گفتگو سامنے آئی، اس نے اس پہلو کو خاص طور پر روشن کیا کہ تقدس کی آڑ میں قائم اثر و رسوخ کس طرح جسمانی، ذہنی اور رقمی استحصال کے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذہبی اعتماد کو جنسی یا نفسیاتی جبر کے لیے استعمال کیا گیا، تو یہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ سماجی رشتوں کے بنیادی اخلاقی معاہدے کی شکست ہے۔ ایسے جرم کی سنگینی اس لیے بھی زیادہ ہوتی ہے کہ اس میں مجرم صرف جسم پر حملہ نہیں کرتا، وہ اعتماد، ایمان، عزت اور خاموشی کے پورے نظام کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ متاثرہ فرد صرف ایک واقعے کا شکار نہیں ہوتا؛ وہ اس احساس سے بھی گزرتا ہے کہ جس شخصیت کو اس نے پناہ سمجھا، وہی خطرے کا مرکز نکلی۔ یہی ٹوٹ پھوٹ اسے برسوں تک بولنے نہیں دیتی۔
تکنیکی دور نے اس مسئلے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب استحصال صرف بند کمرے تک محدود نہیں رہتا؛ اس کی رسائی موبائل فون، ڈیٹا اسٹوریج، گفتگو کی ایپلی کیشنز، سماجی پلیٹ فارمز اور وائرل کلچر تک پھیل جاتی ہے۔ اگر کسی کیس میں خفیہ ریکارڈنگ، ویڈیو کے اخراج، بلیک میلنگ یا نجی مواد کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے شواہد سامنے آئیں تو معاملہ دوہرا ہو جاتا ہے جس میں ایک طرف بنیادی جرم ہے اور دوسری طرف اس جرم کو چھپانے یا جاری رکھنے کے لیے تکنیکی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں روایتی شرم، سماجی بدنامی اور آن لائن تشہیر آپس میں مل کر متاثرین کے لیے ایسا خوف پیدا کرتی ہیں جس سے نکلنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے آج بھی بہت سے لوگ جرم سے زیادہ اس کے چرچے سے ڈرتے ہیں۔ یہی خوف مجرموں کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔
اس بحث کا ایک افسوس ناک پہلو عوامی ردِعمل بھی ہے۔ جب کوئی حساس معاملہ سامنے آتا ہے تو معاشرے کا ایک حصہ فوری انصاف کا مطالبہ کرنے کے بجائے ویڈیو، تصویر، گفتگو یا اصل راز تلاش کرنے لگتا ہے۔ یوں جرم کے خلاف اجتماعی نفرت کی جگہ تجسس لے لیتا ہے، اور خبر ایک اخلاقی مسئلہ نہ رہ کر بازاری تفریح میں بدلنے لگتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ قانونی عمل کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ شواہد کو آلودہ کرتا ہے، افواہوں کو بڑھاتا ہے اور متاثرہ افراد کے لیے فضا مزید غیر محفوظ بناتا ہے۔ سنجیدہ صحافت کا کام اسی مقام پر شروع ہوتا ہے کہ وہ عوام کے تجسس کو نظم دیتی ہے، الزام کو سیاق میں رکھتی ہے، اور خبر کو تماشہ بننے سے بچاتی ہے۔
ایسے معاملات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ میں غیر جانب دار زبان، متاثرین کی شناخت کی حفاظت، سنسنی خیز الفاظ سے گریز، اور احتساب کا رخ واضح طور پر ملزم یا طاقت کے ڈھانچے کی طرف رکھنا بنیادی اصول مانے جاتے ہیں۔ اسی طرح مضبوط صحافتی تحریر محض غصے یا اخلاقی خطابت پر نہیں بلکہ قابلِ تصدیق معلومات، واضح زاویۂ نگاہ اور ٹھوس شواہد پر استوار ہوتی ہے۔ اشوک کھرات جیسے معاملات پر لکھتے ہوئے یہی اصول سب سے زیادہ ضروری ہیں، کیونکہ یہاں الفاظ بھی انصاف یا ناانصافی میں حصہ دار بن سکتے ہیں۔ اگر زبان بے قابو ہو جائے تو صحافت، سچائی کی خدمت کے بجائے ہجوم کی نفسیات کی خادمہ بن جاتی ہے۔
عالمی صحافتی معیار کی رو سے اس طرح کے مضمون میں تین سطحیں ایک ساتھ موجود ہونی چاہئیں جن میں خبر کی سطح، پس منظر کی سطح، اور احتساب کی سطح شامل ہے۔ خبر کی سطح پر صرف وہی بات کہی جائے جو قابلِ تصدیق ہو کہ الزامات کیا ہیں، تحقیقات کس مرحلے میں ہیں، پولیس یا عدلیہ نے کیا کہا، اور قانونی صورتِ حال کیا ہے۔ پس منظر کی سطح پر یہ دیکھا جائے کہ مذہبی یا روحانی اختیار کے نام پر استحصال کے طریقے کیسے بنتے ہیں، کن سماجی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اور متاثرین کیوں دیر سے سامنے آتے ہیں۔ احتساب کی سطح پر سوال یہ اٹھایا جائے کہ ادارے کہاں ناکام ہوئے، مقامی سماجی ڈھانچہ کیسے خاموش رہا، اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کون سی قانونی، تعلیمی اور ابلاغی اصلاحات ضروری ہیں۔ جب یہ تینوں سطحیں ایک ہی متن میں توازن کے ساتھ جمع ہو جائیں، تب ایک مضمون جذباتی نعرہ نہیں رہتا بلکہ عوامی مفاد کی صحافت بن جاتا ہے۔
اس پورے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار مرکزی ہے۔ اگر کوئی مذہبی یا سماجی حیثیت رکھنے والا شخص سنگین الزامات کی زد میں آئے تو اس کے ساتھ نہ غیر ضروری رعایت ہونی چاہیے، نہ قبل از وقت عدالتی فیصلہ۔ تفتیش شفاف ہو، تکنیکی شواہد کی سائنسی جانچ پیشہ ورانہ معیار پر ہو، متاثرہ افراد کے بیانات محفوظ ماحول میں لیے جائیں، اور مقدمے کو سیاسی یا مقامی دباؤ سے بچایا جائے۔ اس کے ساتھ ریاستی سطح پر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا ہمارے پاس ایسے منظم استحصالی جال کی شناخت، نگرانی اور قانونی گرفت کے لیے کافی ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ اگر نہیں، تو ہر نیا اسکینڈل دراصل پرانے نظام کی ناکامی کا اعادہ ہے۔
یہاں مذہب اور مذہبی شخصیت کے فرق کو واضح کرنا بھی ضروری ہے۔ مذہب کسی فرد کا ذاتی جاگیر نامہ نہیں، اور نہ روحانیت کسی شخص کو سوال سے بالا تر بنا دیتی ہے۔ سچی روحانیت انسان میں عاجزی، امانت، ضبط اور خدمت پیدا کرتی ہے؛ جب کہ مذہبی ٹھگی تقدس کو طاقت میں، طاقت کو منافع میں، اور منافع کو جبر میں بدل دیتی ہے۔ اس لیے ایسے معاملات پر تنقید مذہب پر نہیں بلکہ مذہب کے نام پر قائم استحصالی اقتدار پر ہونی چاہیے۔ جو معاشرہ اس فرق کو نہیں سمجھے گا، وہ یا تو ہر مذہبی اظہار سے بدظن ہو جائے گا یا ہر مذہبی دعوے کے سامنے بے بس ہو جائے گا۔ دونوں کیفیتیں نقصان دہ ہیں۔ ضرورت ایک ایسے تنقیدی شعور کی ہے جو احترام اور احتساب کو ایک ساتھ برت سکے۔
اس تحریر کا اصل مقصد یہی ہے کہ اشوک کھرات سے متعلق تنازعے کو محض ایک فرد کی رسوائی کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے اس بڑے سوال کے طور پر پڑھا جائے کہ ہمارے معاشرے میں طاقت کن نقابوں کے پیچھے محفوظ رہتی ہے۔ مذہبی ٹھگی اس وقت تک زندہ رہتی ہے جب تک معاشرہ سوال کرنے سے ڈرتا رہے، ادارے بااثر ناموں سے مرعوب رہیں، ابلاغ عامہ سنسنی کو سچائی پر ترجیح دے، اور ہم اجتماعی طور پر یہ سمجھتے رہیں کہ تقدس خود بخود کردار کی ضمانت ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے کی آزمائش یہی ہے کہ وہ تقدس کے دعوے سے نہیں، کردار کے ثبوت سے فیصلہ کرے؛ شہرت سے نہیں، شفاف تفتیش سے سچ جانے؛ اور عقیدت سے نہیں، انصاف سے اپنی اجتماعی سمت متعین کرے۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، مذہبی ٹھگی مختلف ناموں اور چہروں کے ساتھ واپس آتی رہے گی۔ اور جب یہ تبدیلی آ جائے گی، تب شاید کوئی بھی شخص عقیدت کے مقدس دروازے کو استحصال کی خفیہ راہداری میں بدلنے کی جرأت نہ کر سکے۔








