Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تلنگانہ کی تاریخ میں 25 اپریل سے ایک نئی طرز کی سیاست کا آغاز*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تلنگانہ کی تاریخ میں 25 اپریل سے ایک نئی طرز کی سیاست کا آغاز*

*استفسار، جدوجہد اور مسائل کی یکسوئی ہی ہمارا نصب العین*

*حکمران جماعت کانگریس اور اپوزیشن جماعت بی آر ایس  نےعوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا*

*تلنگانہ کانگریس کے لیے اے ٹی ایم بن چکا ہے،کویتا کی ریونت حکومت پر شدید تنقید*

*چیف منسٹر ریونت ریڈی پر غلامی کی سیاست کو فروغ دینے کا الزام*

*رنجیت کمار اور ان کے حامیوں کی تلنگانہ جاگروتی میں شمولیت۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے اعلان کیا ہے کہ 25 اپریل کا دن تلنگانہ کی تاریخ اور مستقبل کو بدلنے والا دن ثابت ہوگا جب نئی سیاسی جماعت کے قیام کے ساتھ ریاست میں ایک نئے طرز کی سیاست کا آغاز کیا جائے گا۔  “ہم سوال کریں گے، جدوجہد کریں گے اور مسائل کا حل پیش کریں گے”، یہی ہماری سیاست کا بنیادی نصب العین ہوگا۔وہ بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگروتی دفتر میں نڈیگڈہ حقوق جدوجہد سمیتی کے صدر رنجیت کمار اور ان کے حامیوں کی جاگروتی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کر رہی تھیں۔ کویتا نے انہیں پارٹی کا کھنڈوا اوڑھا کر باضابطہ طور پر خوش آمدید کہا۔کویتا نے کہا کہ ریاست میں برسراقتدار کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس دونوں ہی عوامی مسائل کو نظرانداز کر رہے ہیں، جس کے باعث آج ہر زبان پر یہ بات ہے کہ عوامی مسائل پر آواز اٹھانے والی واحد تنظیم جاگروتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے تلنگانہ کو ملک بھر کے انتخابات کے لئے اے ٹی ایم بنا دیا ہے اور ریاستی وسائل کو دیگر ریاستوں کے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دہلی کے سامنے مکمل طور پر جھک چکے ہیں اور خود مختاری کے بجائے “غلامی کی سیاست” کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کا مقصد خود حکمرانی تھا، مگر آج دہلی کی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔کویتا نے اپر بھدرا پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے کے معاملہ پر بھی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجہ میں تنگبھدرا کے پانی کی قلت کا نقصان متحدہ محبوب نگر ضلع کو اٹھانا پڑے گا، مگر اس اہم مسئلہ پرریاستی حکومت کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں ریئل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں کے نام پر عوام کو ہراساں کر کے رقم وصول کی جا رہی ہےجبکہ کسانوں سے کئے گئے وعدے، جیسے “رعیتو بھروسہ” اور قرض معافی، اب تک پورے نہیں کئے گئے۔کویتا نے کہا کہ جاگروتی عوام کے لئے ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے جو عام لوگوں کے ذریعہ، عام لوگوں کے لئے سیاست کو فروغ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح کے ماہرین کے ساتھ مشاورت کر کے ایک جامع اور موثر عوامی ایجنڈہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے حقیقی معنوں میں عوامی فلاح کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے گدوال اور اطراف کے علاقوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے ہینڈلوم مزدور، سیڈ کاٹن کے کسان اور دیگر طبقات اب بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہینڈلوم ورکرس کو فوری آرڈرس، دھاگہ اور رنگ فراہم کئے جائیں اور کسانوں کے واجبات ادا کئے جائیں۔کویتا نے کہا کہ نڈیگڈہ حقوق جدوجہد سمیتی کے صدر رنجیت کمار ایک مخلص اور متحرک لیڈر ہیں جو گزشتہ چند ماہ سے جاگروتی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں وہ عوامی خدمت کے میدان میں اہم کردار ادا کریں گے۔آخر میں کویتا نے کہا کہ جاگروتی عوامی جدوجہد کو مزید مضبوط کرے گی اور آنے والے دنوں میں ریاست میں ایک نئی سیاسی سمت متعین کرے گی جو مکمل طور پر عوامی مفادات کے تحفظ پر مبنی ہوگی۔