Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*جمہوریت کی روح کا زوال: جب ریاست ایک انتخابی مشین بن جائے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*جمہوریت کی روح کا زوال: جب ریاست ایک انتخابی مشین بن جائے*

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

جمہوریت کی روح اس کی عوامی نمائندگی اور ریاستی جواب دہی کے شفاف نظام میں پنہاں ہے، جہاں حکومتیں محض اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی اور عوامی خدمت کی بنیاد پر پرکھی جاتی ہیں۔ لیکن جب کوئی سیاسی جماعت، بالخصوص برسرِ اقتدار، اپنے بنیادی فریضۂ حکمرانی کو ثانوی حیثیت دے کر صرف اور صرف انتخابات میں فتح حاصل کرنے کو ہی اپنا حتمی نصب العین بنا لے، تو جمہوری اقدار کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے اور ریاست ایک فلاحی ادارے کے بجائے محض ایک بے روح انتخابی مشین میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حالیہ سیاسی طرزِ عمل کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ جماعت ایک ایسی ہمہ وقتی انتخابی مہم میں تبدیل ہو چکی ہے جو سال کے بارہ مہینے، چوبیس گھنٹے صرف انتخابی حالت میں رہتی ہے۔ بہار کے انتخابات میں کامیابی کے فوراً بعد جس تیزی سے پوری ریاستی مشینری کو مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرلا کی جانب موڑ دیا گیا، اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے کہ بی جے پی کی نظر میں حکومت کرنا محض دو انتخابات کے درمیان ایک عبوری وقفہ ہے؛ اصل مقصد تو اگلی انتخابی جنگ کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد ہے، بالکل ایک پیشہ ور کاروباری ادارے کی طرح جو ایک ہدف مکمل ہوتے ہی اگلے ہدف کے حصول میں جُت جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ اس جماعت کا وجود شاید صرف انتخابات جیتنے کے لیے ہی وقف ہے، خواہ اس مقصد کے حصول کے لیے حکمرانی، عوامی فلاح، اور آئینی اخلاقیات کو ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔

اس انتخابی جنون کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وزراء اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے پارٹی کے کل وقتی انتخابی کارکن بن کر رہ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومتی ڈھانچہ بتدریج مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ مثال کے طور پر، جب دارالحکومت دہلی فضائی آلودگی کی شدید لپیٹ میں تھا اور ہوا کے معیار کا اشاریہ خطرناک حدوں کو چھو رہا تھا، تب ملک کے وزیر ماحولیات دہلی کے بحران پر ہنگامی اقدامات کرنے کے بجائے مغربی بنگال میں پارٹی کی انتخابی حکمت عملی مرتب فرما رہے تھے۔ یہ محض ایک فرد کی ترجیحات کا انحراف نہیں، بلکہ پوری حکومتی سوچ کی عکاسی ہے، جہاں عوام کی صحت اور زندگی سے زیادہ اہمیت آنے والے انتخابات کو دی جاتی ہے۔

یہ رجحان کسی ایک وزارت تک محدود نہیں؛ کسان اپنی بقا کے لیے مہینوں تک دارالحکومت کی سرحدوں پر سراپا احتجاج رہے، لیکن وزیر زراعت منظر سے غائب رہے؛ ملک میں یکے بعد دیگرے ہولناک ریل حادثات رونما ہوئے، لیکن وزیر ریلوے جواب دہی سے گریزاں نظر آئے، حتیٰ کہ نئی ٹرینوں کے افتتاح کی رسم بھی وزیر اعظم خود ادا کرتے ہیں تاکہ اس کا سیاسی فائدہ براہِ راست ان کی شخصیت کو پہنچے؛ اور جب ملک بھر سے نوجوان روزگار کے حق کے لیے دہلی میں جمع ہوئے، تو کسی وزیر نے ان سے مذاکرات تو کجا، ان کی بات سننا تک گوارا نہ کیا، بلکہ ان پر ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کر کے انہیں منتشر کر دیا گیا۔ یہ تمام وزراء درحقیقت “انتخابی منتظمین” بنا دیے گئے ہیں جن کا واحد فریضہ ریاست در ریاست جا کر پارٹی کے لیے سیاسی زمین ہموار کرنا ہے، جب کہ عوامی مسائل اور وزارتی امور محض فائلوں کی دھول میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔

بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی صرف تنظیمی برتری اور وسائل کی فراوانی پر ہی منحصر نہیں، بلکہ اس میں سماجی نفسیات کا استحصال اور عوامی بیانیے پر مکمل تسلط قائم کرنے کا گہرا عنصر بھی کارفرما ہے۔ پارٹی مہینوں قبل کسی ریاست میں اپنی ماہر ٹیمیں روانہ کر کے وہاں کے عوام کی “نبض” نہیں بلکہ “کمزور نس” پر ہاتھ رکھتی ہے؛ وہ نہایت باریک بینی سے اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ عوام کی معاشی مجبوریاں کیا ہیں، سماجی تقسیم کیوں کر ممکن ہے، اور کن جذباتی مسائل پر انہیں متحرک یا گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ جب وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کسی خطے کی خواتین مہنگائی سے نالاں ہیں اور چند ہزار روپوں کی محتاج ہیں، تو وہ براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں نقد رقوم منتقل کرنے جیسے اعلانات کرتے ہیں۔ یہ حربہ، جسے سیاسی مبصرین “ووٹ کے بدلے نقد” کی جدید اور زیادہ مہلک شکل قرار دیتے ہیں، غریب ووٹر پر ایک گہرا نفسیاتی اثر مرتب کرتا ہے اور اس کی سیاسی ترجیحات کو بنیادی ضروریات کی فراہمی سے ہٹا کر فوری مالی فائدے پر مرکوز کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، مفت راشن کی اسکیم ایک ایسا مستقل اور خودکار نظام ہے جو ملک بھر میں کروڑوں غریبوں کو پارٹی کا ایک خاموش اور وفادار ووٹر بنائے رکھتا ہے، جہاں ووٹر اپنی دیگر شہری سہولیات جیسے صحت، تعلیم اور تحفظ کو بھول کر محض پیٹ بھرنے کو ہی حکومت کا سب سے بڑا احسان سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

ایک صحت مند اور فعال جمہوریت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، لیکن بھارت میں بی جے پی اور حزب اختلاف کے مابین وسائل کا تفاوت اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ یہ مقابلہ ایک غیر منصفانہ اور یک طرفہ جنگ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انتخابی بانڈز کے ذریعے حاصل ہونے والے بے پناہ کارپوریٹ عطیات، سینکڑوں ہیلی کاپٹروں پر مشتمل فضائی بیڑہ، ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال، اور سب سے بڑھ کر ایک مطیع و فرمانبردار میڈیا جو دن رات صرف حکومتی مدح سرائی میں مصروف رہتا ہے، بی جے پی کو ایک ایسی ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتا ہے جس کے سامنے حزب اختلاف بے بس اور لاچار دکھائی دیتی ہے۔ اس ہمہ گیر پروپیگنڈے کے طوفان میں حزب اختلاف کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ حزب اختلاف کے قائدین اگر عوام کے درمیان کام کرتے بھی ہیں تو میڈیا انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیتا ہے، جس سے یہ بیانیہ مزید پختہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن تو میدان میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہ صورت حال انتخابی عمل کو ایک ایسی رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیتی ہے جہاں نتیجہ پہلے سے نوشتۂ دیوار محسوس ہوتا ہے، جو جمہوری مقابلے کی روح کو شدید ترین زک پہنچاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک رجحان یہ ہے کہ اب سیاست دانوں کے دل سے عوام اور احتساب کا خوف بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں ایک منتخب نمائندے کو یہ خدشہ لاحق رہتا تھا کہ اگر اس نے عوامی خدمت میں کوتاہی برتی یا عوام اس سے ناراض ہو گئے تو اسے اگلے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن حالیہ انتخابی نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک امیدوار جس کی سنگین اخلاقی بے راہ روی پر مبنی ویڈیو منظر عام پر آتی ہے، اسے پارٹی کی اعلیٰ قیادت “ایک نیک انسان” قرار دے کر اس کی کامیابی کی اپیل کرتی ہے اور وہ بھاری اکثریت سے منتخب ہو جاتا ہے۔ ایک اور رکن اسمبلی کو جب اس کے حلقے کے عوام پانچ سال تک غائب رہنے اور عوامی مسائل سے مکمل روگردانی کرنے پر برسرِ عام جھاڑ پلاتے ہیں، تو اس کے باوجود وہ دوبارہ منتخب ہو جاتی ہے۔ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ اب امیدوار کا کردار، اس کی کارکردگی، اس کی تعلیمی قابلیت، اور اس پر عائد بدعنوانی یا جرائم کے الزامات انتخابی نتائج پر بے اثر ہو چکے ہیں۔ جب عوامی ناراضی اور نمائندے کے کردار کا انتخابی عمل پر کوئی اثر ہی مرتب نہ ہو، تو جمہوریت میں جواب دہی کا بنیادی ستون ہی منہدم ہو جاتا ہے۔

اس تمام تر سیاسی شطرنج میں بیانیے یعنی “نریٹو” کی جنگ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ بی جے پی عوام کے حقیقی مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی، اور زوال پذیر معیشت پر منطقی اور مدلل بحث سے دانستہ گریز کرتی ہے۔ جب بھی انتخابات کا موسم قریب آتا ہے، قومی سلامتی، مذہب، اور ماضی کی تلخیوں جیسے جذباتی مسائل کو مصنوعی طور پر ابھارا جاتا ہے۔ “گھس پیٹھیوں” کا موہوم خطرہ، پچیس بیس سال پرانے “جنگل راج” کی ہولناک یاد دہانیاں، اور مخالفین کے خلاف ذاتی نوعیت کے حملے عوام کی توجہ ان کے بنیادی اور حقیقی مسائل سے کامیابی کے ساتھ ہٹا دیتے ہیں۔ حزب اختلاف اگر روزگار، صحت اور تعلیم کی بات کرتی بھی ہے تو اس کی آواز کو سرمائے، میڈیا کی طاقت، اور جذباتی نعروں کے کان پھاڑ دینے والے شور میں دبا دیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال اس بنیادی اور اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر عوام کے حقیقی مسائل انتخابی مباحثے کا مرکزی نکتہ ہی نہیں بنیں گے، تو پھر اس جمہوریت کی افادیت اور مقصدیت کیا باقی رہ جاتی ہے؟

بالآخر، حالیہ انتخابات کے نتائج اور ان سے وابستہ تنازعات نے جس طرح کے سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، وہ بھارتی جمہوریت کے مستقبل کے لیے ایک شدید خطرے کی علامت ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ ویڈیوز اور رپورٹس، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ دیگر ریاستوں کے ووٹرز کو منظم طریقے سے ٹرینوں میں بھر کر بہار میں ووٹ ڈالنے کے لیے لایا گیا، نے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک ہی فرد کا متعدد مقامات پر ووٹ ڈالنا ایک سنگین جرم ہے، لیکن الیکشن کمیشن جیسے اہم آئینی ادارے کی اس معاملے پر پراسرار اور معنی خیز خاموشی نے ان شکوک کو مزید تقویت بخشی ہے۔ جب انتخابی عمل کی غیر جانب داری ہی مشکوک ہو جائے اور ان سنگین الزامات کی کوئی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات نہ ہوں، تو عوام کا ایک بڑا طبقہ، بالخصوص وہ جو حزب اختلاف کا حامی ہے، پورے جمہوری نظام پر سے اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ یہ صورت حال سیاسی جماعتوں کی ہار جیت سے کہیں زیادہ سنگین اور مہلک ہے؛ یہ جمہوریت کی روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

بی جے پی بلاشبہ ایک نہایت مؤثر اور کامیاب انتخابی تنظیم ہے جو ہر حال میں جیتنا جانتی ہے، لیکن جس طریقے سے وہ جیت رہی ہے اور جیتنے کے بعد جس طرح وہ حکمرانی کے تقاضوں کو پامال کر رہی ہے، وہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ جب جیتنا ہی واحد اور حتمی مقصد بن جائے، تو پھر عوامی خدمت، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت محض ایک “انتخابی آمریت” کا روپ دھار لے گی، جہاں انتخابات تو دھوم دھام سے ہوتے ہیں، لیکن جمہوریت کی روح دم توڑ دیتی ہے؟