درگاپور میڈیکل کالج معاملے میں 31 دن بعد عدالت نے پیر کے روز ملزمان کے خلاف فردِ جرم (چارج) عائد کر دی۔ دس روزہ عدالتی حراست ختم ہونے کے بعد تمام چھ ملزمان کو آج دُرگاپور سب ڈویژنل کورٹ میں پیش کیا گیا۔
ملزم طالبعلم واصف علی کے وکیل شیکھر کنڈو نے عدالت میں اپنے مؤکل کی بےگناہی کی عرضی پیش کی، جس کے بعد جج کچھ دیر کے لیے عدالت سے باہر چلے گئے۔ واپسی پر ایڈیشنل سیشن جج لوکیش پاٹھک نے واصف علی کی ضمانت کی عرضی مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کے خلاف چارج طے کرنے کا حکم دیا۔
سرکاری وکیل دیباس چٹوپادھیائے نے عدالت میں تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ واصف علی پر ریپ اور سازش کا الزام ہے، جب کہ شیخ ناصرالدین، شیخ فردوس اور اوپو باوری پر اجتماعی زیادتی اور ڈکیتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ریاض الدین اور شفیق شیخ پر جرائم میں شریک ہونے اور ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے۔
عدالت نے تمام چھ ملزمان کو مزید نو دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ مقدمے کی سماعت (ٹرائل) 19 نومبر سے شروع ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ “واصف علی کی ضمانت کی عرضی مسترد ہو گئی ہے، الزامات طے ہو گئے ہیں، اور اب ٹرائل شروع ہونے جا رہا ہے۔”
دریں اثنا اطلاع ہے کہ شفیق شیخ اور شیخ ریاض الدین نے سرکاری گواہ (راج ساکشی) بننے سے انکار کر دیا ہے۔










