درگاپور کے ارجن پور علاقے میں دامودر ویلی کارپوریشن (ڈی وی سی) کی جانب سے چلائی گئی تجاوزات ہٹاؤ مہم کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ڈی وی سی کے ڈی ٹی پی ایس علاقے میں نئی یونٹ اور اسپتال کی تعمیر کے مقصد سے جمعہ کی علی الصبح یہ کارروائی کی گئی، جسے لے کر مقامی باشندوں اور سیاسی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ ڈی وی سی کے دستے نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے چائنا باؤری نامی خاتون کے کھپریل مکان کو مسمار کر دیا، جو مبینہ طور پر طویل عرصے سے وہاں رہائش پذیر تھیں۔ مقامی ترنمول کانگریس قیادت نے اس کارروائی کو ’’غیر انسانی‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چائنا باؤری کینسر جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ الزام کے مطابق شدید سردی اور صبح کے وقت انہیں زبردستی گھر سے باہر نکالا گیا اور گھر کا سارا سامان باہر پھینک کر مکان توڑ دیا گیا۔ اس واقعے کے خلاف ترنمول کانگریس نے ڈی وی سی انتظامیہ کے خلاف سخت محاذ کھول دیا ہے۔ سابق کونسلر اروِند نندی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیمار خاتون کے ساتھ اس طرح کا سلوک کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک متاثرہ خاتون کو انصاف نہیں ملتا، احتجاج اور تحریک جاری رہے گی۔ ترنمول رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ترقی کے نام پر انسانی جذبات اور ہمدردی کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ علاقے میں بڑھتے تناؤ کے پیش نظر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب دامودر ویلی کارپوریشن نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ڈی وی سی کے سینئر جنرل منیجر امیت مودی نے کہا کہ مذکورہ خاندان طویل عرصے سے سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے تھا۔ ان کے مطابق زمین خالی کرنے کے لیے کئی مرتبہ قانونی نوٹس دیے گئے، مگر ان پر عمل نہ ہونے کے بعد ہی تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی گئی۔ امیت مودی نے یہ سنسنی خیز الزام بھی عائد کیا کہ مہم کے دوران ڈی وی سی کے ملازمین پر جان لیوا حملے کی کوشش کی گئی اور انہیں دھاردار ہتھیاروں سے ڈرایا دھمکایا گیا۔ ڈی وی سی انتظامیہ اب اس معاملے میں پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
فی الحال علاقے میں پولیس کی بھاری موجودگی برقرار ہے اور اس واقعے پر سیاسی الزام تراشی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس کے باعث درگاپور کا ارجن پور علاقہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔






