درگاپور کے آرتی گاؤں میں جمعرات کی رات ترنمول کانگریس کے دو گروپوں کے درمیان شدید تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس میں دونوں جانب سے دو افراد بری طرح زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کی فضا قائم ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے درگاپور سب ڈویژنل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
زخمی ترنمول کارکن شیخ نیئن کا الزام ہے کہ گاؤں کی ایک خاتون پنچایت رکن اور ان کے شوہر سرکاری سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ جب انہوں نے اس کی مخالفت کی تو ان کے گھر کی چھت سے اینٹ اور پتھر پھینکے گئے، جس سے ان کے سر پر گہری چوٹ آئی۔ دوسری جانب زخمی پنچایت رکن کے شوہر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اصل تنازع گھر کی رنگائی کو لے کر شروع ہوا تھا۔ ان کے مطابق جب وہ معاملہ سلجھانے کی کوشش کر رہے تھے تو ترنمول کے ہی ایک گروپ نے ان پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ترنمول کے عوامی نمائندے اور ان کے اہل خانہ ہی محفوظ نہیں ہیں تو عام شہریوں کی سلامتی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔ اس واقعے کو لے کر مخالف سیاسی جماعتوں نے ترنمول کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے قریب آتے ہی پارٹی کے اندرونی اختلافات عوام کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ تاہم ترنمول کانگریس کی ضلع قیادت نے اسے گروہی تصادم ماننے سے انکار کیا ہے۔ ضلع قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی سیاسی تصادم نہیں بلکہ ایک مقامی مسئلے کو لے کر پیدا ہونے والی باہمی جھڑپ ہے۔ زخمی دونوں ترنمول رہنماؤں نے بھی بتایا ہے کہ اس معاملے سے ضلع قیادت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔










