2002 کے ووٹر لسٹ میں نام درج ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈال چکے، 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں بھی اپنی رائے دہی کا حق استعمال کر چکے—اس کے باوجود 2025 کی ووٹر لسٹ میں نام کے آگے ’ڈیلیٹ‘ لکھا دیکھ کر درگا پور ویسٹ اسمبلی حلقے کے 80 نمبر بوتھ باشندہ رنجیت دے اور ان کی اہلیہ مُنّی دے شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ صورتحال نے پورے گھر کے اندر دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ رنجیت دے نے بتایا، “میرا مستقل گھر 14 نمبر وارڈ کے اولڈ کورٹ موڑ پر ہے، لیکن ملازمت کی وجہ سے میں اس وقت درگا پور اسٹیل سٹی میں رہتا ہوں۔ میں نے ہر الیکشن میں ووٹ دیا ہے۔ میرے پاس ووٹر کارڈ اور آدھار کارڈ بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود 2025 کی لسٹ میں ہمارے نام کے آگے ‘ڈیلیٹ’ لکھا ہوا ہے۔ ہمیں اپنے نابالغ بیٹے کے مستقبل کی بھی سخت فکر ہے۔” ان کی اہلیہ مُنّی دے نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں کہا،
“ایسا لگ رہا ہے جیسے زندہ رہ کر بھی مر گئے ہوں۔ ہم شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔ ریاستی وزیر پردیپ مجمدار کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا ہے، انہوں نے ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔” ریاست کے پنچایت، دیہی ترقی اور کوآپریٹو وزیر پردیپ مجمدار نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا،
“ریاست کے مختلف علاقوں میں ایسے معاملات سامنے آ رہے ہیں جہاں اہل ووٹروں کے نام سازش کے تحت حذف کیے جا رہے ہیں۔ ہم ان سب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک بھی اہل ووٹر کا نام لسٹ سے خارج نہ ہو۔ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ان کے نام کیوں حذف کیے گئے۔” دوسری جانب درگا پور ویسٹ کے بی جے پی ایم ایل اے لکشمن گھروی نے کہا،
“الیکشن کمیشن نے صاف کہا ہے کہ کسی بھی جائز ووٹر کا نام نہیں کٹے گا۔ میں نے بھی معاملہ سنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہیں تکنیکی غلطی ہوئی ہو۔” یہ واقعہ علاقے میں انتخابی عمل پر سنجیدہ سوال کھڑے کر رہا ہے اور مقامی باشندوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔










