*دفتر تلنگانہ جاگروتی میں سنت سیوا لال کی جینتی تقریب*
*تانڈوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے: کے کویتا*
تلنگانہ جاگروتی کے مرکزی دفتر بنجارہ ہلز میں سنت سیوالال مہاراج کی 287 ویں جینتی تقریب منائی گئی۔ اس موقع پر خصوصی پوجا کا اہتمام کیا گیا جن میں بنجارہ برادری کے مذہبی پیشواؤں نے شرکت کی۔ تقریب سےصدر جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے خطاب کرتے ہوئے سنت سیوالال مہاراج کو صرف روحانی پیشوا نہیں بلکہ عظیم سماجی مصلح قرار دیا۔
کویتا نے کہا کہ سیوالال مہاراج نے بنجارہ سماج کے وقار، خودداری اور سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کی اور ان کی تعلیمات پورے ملک کے نصاب کا حصہ ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گور بولی زبان کو آٹھویں شیڈول میں شامل کیا جائے اور تانڈوں میں پھیلی غربت کے خاتمے کے لئے خصوصی فنڈ اور ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جاگروتی نے محض نمائشی سیاست نہیں کی بلکہ مرکزی تنظیمی ڈھانچے میں بنجارہ فرزند کو ورکنگ پریسیڈنٹ کا موقع دیا تاکہ پسماندہ طبقات کو حقیقی قیادت مل سکے۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ وہ مقامی سطح پر قیادت سنبھالیں، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات میں حصہ لیں اور اپنے تانڈوں میں ترقی کی شمع روشن کریں۔صدر جاگروتی نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ تانڈوں کو گرام پنچایت بنانے کے باوجود بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ہر تانڈہ کو 25 لاکھ روپئے، راشن شاپس، آنگن واڑی مراکز اور دیگر ڈھانچے فراہم کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بنجارہ برادری کو صرف پانچ نشستوں تک محدود کرنے کی منطق کیا ہے، جبکہ آبادی کے پرانے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔
کویتا نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ بنجاروں اور دیگر ایس ٹی طبقات کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، جبکہ جاگروتی دونوں طبقات کے حقوق کے لئے یکساں جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جی او 33 کے مطابق دس فیصد ریزرویشن دیا جانا چاہئے اور گزشتہ دو برسوں میں داخلوں، ترقیوں اور ملازمتوں میں اس پر عمل ہوا یا نہیں، اس پر حکومت کو وائٹ پیپر جاری کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ خودداری کا تقاضا ہے کہ سیوالال مہاراج کی یادگاریں اور مجسمے دارالحکومت میں قائم کئے جائیں۔ حکومت نے ابھی تک لمباڑہ طبقہ کو وزارت میں نمائندگی نہیں دی، جس کی فوری طور پر تکمیل ہونی چاہئے۔ اسی طرح اسائنڈ اراضیات، پوڈو پٹوں کی تقسیم، کارپوریشنوں کے قیام اور آئی ٹی ڈی اے مراکز کے قیام جیسے وعدوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔کویتا نے کانگریس حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس ٹی طبقات سے کئے گئے وعدوں میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ تعلیمی امداد، مالی معاونت اور ترقیاتی اسکیموں کے نام پر بڑے بڑے اعلانات کئے گئے مگر عملی طور پر کچھ نہیں ملا۔میونسپل انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاگروتی نے ایک بلدیہ جیتی مگر اسے بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ریاست میں سوال کرنے والا یا اپوزیشن کا وجود نہیں ہونا چاہئے؟ بی آر ایس نے ماضی میں اپوزیشن کو کمزور کرنے کی سیاست کی جس کی وجہ سے اقتدار کھویا اور اگر کانگریس بھی وہی راستہ اختیار کرے گی تو عوام اسے بھی سبق سکھائیں گے۔

کویتا نے کہا کہ ٹرائبل ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ محض رسمی بن کر رہ گئی ہے اور قبائلی عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنت سیوالال مہاراج کے پیغام، خودداری اور سماجی انصاف کے نظریہ کے مطابق جاگروتی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور انہیں یقین ہے کہ عوام کی تائید سے تحریک مزید مضبوط ہوگی۔






