Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*رباعی اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ فنی و فکری صلاحیتوں کی متقاضی ہے: پرووفیسر خواجہ محمد اکرام الدین۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*رباعی اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ فنی و فکری صلاحیتوں کی متقاضی ہے: پرووفیسر خواجہ محمد اکرام الدین۔*

لکھنؤ،(پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری) اردو رباعی کا یہ بین الاقوامی سیمینار اردو ادب کی سر گرمیوں میں اس لئے یاد کیا جائیگا کہ ”اردو رباعی“کے حوالے سے اردو دنیا کا یہ پہلا سیمینار ہے جس میں رباعی جیسی محتشم بالشان صنف پر فکر و فن کے حوالے سے ملک و بیرون ملک کے ادیب اور دانشوران شرکت کررہے  ہیں۔ مذکورہ باتیں پروفیسر عباس رضا نیرؔ صدر شعبہ اردو، لکھنؤ یونی ورسٹی، لکھنؤ نے فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی حکومت اترپردیش لکھنؤ اور شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ کے اشتراک سے منعقد ہونے والے دوروزہ بین الاقوامی سیمیناربعنوان”اردو رباعی کاعصری منظر نامہ“ بمقام اردو اکیڈمی ہال، کے افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے کہی۔
اس دوروزہ بین الاقوامی سیمینار کا افتتاحی اجلاس ۴۲ اپریل ۶۲۰۲؁ء کو اردو اکیڈمی ہال لکھنؤ  میں منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم سابق صدر شعبہ اردو علی گڑھ یونیورسٹی، علی گڑھ نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسرشہاب عنایت ملک صدر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی اور مہمان اعزازی پروفیسر شفیق احمد اشرفی سابق صدر شعبہ اردو خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی،لکھنؤرہے۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ: رباعی ایک مشکل صنف ہے کیونکہ اختصار اور اوزان کی پابندی کے ساتھ کسی ایک موضوع پر ادبی جمالیات کے ساتھ کسی خیال کو پیش کرنا فنی اور فکری صلاحیتوں کا متقاضی ہے اس لئے اس صنف کے شعراء کم ہیں مگر وقت کے اعتبار سے اس صنف کی بڑی اہمیت ہے، خود لکھنؤ کی سرزمین نے رباعی جیسی مشکل صنف کی آبیاری کی ہے۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بلا شبہ فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی اور صدر شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ پروفیسر عباس رضا نیرؔکا یہ عمل قابل فخر اور قابل ستائش ہے کہ آپ نے مشکل ترین صنف رباعی پر یہ دورازہ سیمینار منعقد کرانے کا فریضہ انجام دیا۔اس افتتاحی سیشن کے دانشوران ادب نے جس طرح اس پر گفتگوکی وہ قابل رشک ہے۔ اور جو مثالیں نئی نسل کے تعلق سے دیں اس سے اور بھی تقویت بڑھتی ہے کہ اردو رباعی کا مستقبل روشن ہے۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے کہا کہ: موجودہ دور میں بہت کم شعراء ہیں جو اس مشکل صنف میں طبع آزمائی کررہے ہیں۔اس صنف میں ہمارا تہذیبی و تمدنی ورثہ بھی موجود ہے جسے عام کرنے کی موجودہ حالات میں بے حد ضرورت ہے۔پروفیسر شفیق احمد اشرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رباعی صنفی اعتبار سے ایک مختصر اور قدیم صنف سخن ہے جو مشق کا تقاضہ کرتی ہے۔ اس کے موضوعات کا دائرے لا محدود ہے لیکن اس کے اوزان مقرر ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے آخر میں ڈاکٹر جان نثار عالم نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔
چائے کے وقفے کے بعد پہلا تکنیکی اجلاس شروع ہوا جس کی صدارت پروفیسر شہاب عنایت ملک اور پروفیسر ثعبان سعید نے کی اور پروفیسر دبیر احمد،پروفیسر عابد حسین حیدری، سنجے مشرا شوق، فاروق جائیسی اور ڈاکٹر ذیشان حیدر نے اوردو رباعی کے عصری منظر نامے کے حوالے سے مختل
ف عنوانات پر مقالات پیش کئے۔
ظہرانہ کے وقفہ کے بعد دوسرا تکنیکی اجلاس ہوا جس کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کی اور پروفیسر شہاب عنایت ملک، ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی ساجد خیرآبادی، ڈکٹر احتشام احمد اور ڈاکٹر مجتبی حسن صدیقی نے مقالے پڑھے۔تیسرے تکنیکی اجلاس  ڈاکٹر عمیر منظراور ڈاکٹر جان نثار عالم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ریسرچ اسکالرسید غلام عباس ہلوری، صائمہ انصاری، تحسین، محمد سہیل نے اپنے اپنے مقالات پیش کئے۔
شام میں ”مشاعرہ رباعیات“  کی محفل سجی جس کی صدارت فاروق جائسی صاحب نے کی اور نظامت کے فرایض شکیل گیاوی نے انجام دئے۔ شعراء کی حیثیت سے سنجئے مشرا شوق، بے خود لکھنوی، ناز پرتاپ گڑھی، پروفیسر عباس رضانیرؔ، ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی، معید رہبر، اعجاز زیدی، ساجد خیر آبادی، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر ذیشان حیدر، ڈاکٹرمجتبی حسن صدیقی، ابوشبروغیرہ نے شرکت کی۔