*ریاست میں جاری ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کا عزم مصمم*
*انہدامی کارروائی اور مختلف پروجیکٹس کے متاثرین کے ہمراہ کویتا کی گورنر سے ملاقات*
*چیف منسٹر ریونت ریڈی پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام۔ کانگریس حکومت پر شدید تنقید*

تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر اعلیٰ کو “کرکوٹک” قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت کو ظالمانہ حکومت سے تعبیر کیا۔ کویتا نے کہا کہ حکومت عوام بالخصوص خواتین اور کسانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے آج لوک بھون، حیدرآباد میں گورنر شیو پرتاپ شکلا سے ملاقات کی۔ انہوں نے دھرم سماج پارٹی کے صدر وشاردھن مہاراج، ویلوگمٹلا انہدامی کارروائی متاثرین، ٹرپل آر منصوبہ کے باعث بے گھر افراد اور پرگی منڈل کے کڈلاپور انڈسٹریل پارک متاثرین کے ہمراہ گورنر کو تفصیلی یادداشت پیش کی۔اس موقع پر متاثرین کے مسائل گورنر کے سامنے رکھے گئے جن میں ویلوگمٹلا میں مکانات کی انہدامی کارروائیاں، ٹرپل آر منصوبہ کے الائنمنٹ میں بار بار تبدیلی، رایہ گیری میں اراضی کے حصول اور کڈلاپور میں انڈسٹریل پارک کے نام پر زمین حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اور دھرم سماج پارٹی ریاست میں جاری ناانصافیوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تحریک کے نتیجہ میں ویلوگمٹلا کے متاثرین کو وہیں زمین دینے پر حکومت کو رضامند ہونا پڑا جبکہ پرگی اور ٹرپل آر کے لئے حصول اراضی کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا تاہم انہوں نے ان کامیابیوں کو جزوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکمل انصاف کے لئے مرکزی حکومت کی مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت گورنر سے ملاقات کی گئی اور انہیں تمام معاملات سے آگاہ کیا گیا۔ گورنر نے تمام نکات غور سے سننے کے بعد مثبت ردعمل ظاہر کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ حکومت سے رپورٹ طلب کر یں گےاور انصاف فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر حکومت نے مناسب وقت کے اندر متاثرین کو انصاف فراہم نہیں کیا تو وہ دوبارہ احتجاجی تحریک کا راستہ اختیار کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں دستیاب تمام راستوں کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ معمولی امداد دے کر خواتین کو خوشحال بنانے کا کھوکھلا دعویٰ کیا جارہا ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے مکانات مسمار کر کے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ویلوگمٹلا میں انہدامی کارروائی کے دوران ایک خاتون کا اسقاط حمل ہوا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ کویتا نے کسانوں کے مسائل پر بھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر میں کسان پریشان ہیں اور دھان کی خریداری نہ ہونے کے باعث اناج کے انبار پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان خوشحال نہ ہوں تو معاشرہ بھی خوشحال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کسانوں کے دھان کی خریداری عمل میں لائی جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔










