مغربی بنگال کے سالانپور علاقے میں ای سی ایل کی بونجیماری کولیری کے کھلے کان (اوپن کاسٹ مائن) کے سامنے مقامی باشندوں نے روزگار کی مانگ کو لے کر زبردست احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ برابھوئی گاؤں کے ایک حصے کے رہائشیوں کی جانب سے کیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بھتہ دینے کے بجائے انہیں روزگار فراہم کیا جائے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ اس دوران مظاہرین نے کان کے مرکزی دروازے کے سامنے نعرے بازی کی اور ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر اپنے مطالبات پیش کیے۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ کان میں کام کر رہی نجی کوئلہ نکالنے والی کمپنی میں مقامی نوجوانوں کو ملازمت دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی وہ نوکری کے مطالبے کو لے کر یادداشت (میمورنڈم) دے چکے ہیں، جس پر کان انتظامیہ نے یقین دہانی تو کرائی تھی، مگر اب تک کوئی تقرری عمل میں نہیں آئی۔
اسی دوران کان کے منیجر دیپک تنوار پر الزام لگا کہ انہوں نے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت دی کہ انہیں موقع سے ہٹا دیا جائے۔ تاہم منیجر کا کہنا تھا کہ اس وقت جو بھی مزدور کام کر رہے ہیں، وہ سب مقامی ہیں اور کسی بیرونی فرد کو ملازمت نہیں دی گئی ہے۔
منیجر نے مزید کہا کہ پورے معاملے پر کمپنی انتظامیہ نظر رکھے ہوئے ہے۔ احتجاجی مظاہرین کو 19 تاریخ کو ایجنٹ دفتر میں میٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے۔ اس یقین دہانی کے بعد تقریباً دو گھنٹے کے احتجاج کے بعد گاؤں والوں نے پرامن طریقے سے اپنا دھرنا ختم کر دیا۔








