Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سالان پور بلاک ترنمول کانگریس کے صدر محمد ارمان کا نام حتمی ووٹر فہرست سے خارج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

سالان پور بلاک میں سیاسی حلقوں اور انتظامی سطح پر اس وقت زبردست بحث چھڑ گئی جب پچھم بردوان ضلع پریشد کے منتخب کرمادھیکش اور ترنمول کانگریس کے سالان پور بلاک کے طویل عرصے سے صدر محمد ارمان کا نام حتمی ووٹر فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ 28 فروری کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں ان کا نام “انڈر ایڈجوڈیکیشن” کے خانے میں درج کیا گیا ہے، جس کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ محمد ارمان گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سالان پور بلاک ترنمول کانگریس کے صدر کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ تقریباً تین دہائیوں تک روپ نارائن پور کاروباری انجمن کے جنرل سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایسے میں ایک سینئر اور فعال سیاسی شخصیت کا نام ووٹر لسٹ سے عملاً خارج ہونا مقامی سیاست میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
محمد ارمان نے اس معاملے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایس آئی آر مرحلے کے دوران ان کی اہلیہ، بہن، بہنوئی، چچا کے بیٹے اور ان کی اہلیہ سمیت مجموعی طور پر چھ افراد کو سماعت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ مقررہ تاریخ پر تمام ضروری دستاویزات، جن میں میٹرک کا ایڈمٹ کارڈ اور سرٹیفکیٹ وغیرہ شامل تھے، جمع کر دیے گئے تھے۔ اس کے باوجود ان سب کے نام “انڈر ایڈجوڈیکیشن” میں دکھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: “سب کچھ بالکل غلط طریقے سے ہو رہا ہے۔ ہمارے خاندان کے چھ افراد کے نام حتمی فہرست میں شامل نہیں کیے گئے، جبکہ میرے بیٹے اور بیٹی کے نام درست طریقے سے شامل ہیں۔ والدین کو شک کی فہرست میں رکھا گیا اور ان کے بچوں کے نام فہرست میں برقرار ہیں،
یہ پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔” انتظامی ذرائع کے مطابق “انڈر ایڈجوڈیکیشن” کا مطلب یہ ہے کہ جمع شدہ دستاویزات کی دوبارہ جانچ کی جائے گی۔ اگر تصدیق کے دوران اطمینان بخش ثبوت مل جاتے ہیں تو آئندہ جاری ہونے والی ترمیم شدہ فہرست میں نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ بارابنی اسمبلی حلقہ کے تحت سالان پور بلاک کے بوتھ نمبر 71 کے ووٹر محمد ارمان اور ان کے اہل خانہ ہیں۔ بوتھ کے اعداد و شمار کے مطابق ایس آئی آر سے پہلے یہاں کل ووٹرز کی تعداد 450 تھی، جو ابتدائی فہرست کے بعد کم ہو کر 370 رہ گئی۔ ان میں بھی مزید 23 افراد کے نام “انڈر ایڈجوڈیکیشن” میں رکھے گئے ہیں۔ اس طرح صرف ایک بوتھ میں ہی 103 ووٹر یا تو فہرست سے خارج ہو گئے ہیں یا فی الحال معلق حالت میں ہیں۔ مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ کئی بوتھوں میں بغیر واضح وجوہات کے بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرست سے نکالے جا رہے ہیں یا انہیں معلق رکھا جا رہا ہے۔ انتخابی اعلان سے پہلے ووٹر لسٹ کے حوالے سے اس طرح کی غیر یقینی صورتحال انتظامیہ کے کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے، جس پر سیاسی مبصرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔