Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

کاکروچ جنتا پارٹی کے سبھی مطالبات تسلیم کر لیے گئے اور ان کا احتجاج بھی ختم ہو گیا، لیکن ملک میں مختلف قسم کی بحثیں، خدشات اور سیاسی اشارے بھی واضح ہو گئے۔ خود حکومت وقت کو بھی حالیہ سیاسی نبض کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ اس پارٹی کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ دیگر سیاسی پارٹیوں سے اس کے روابط کی نوعیت کیا ہوگی؟ حزبِ اختلاف کس طرح اس نوزائیدہ جماعت کا خیر مقدم کرے گا یا نہیں؟ ایسے بہت سے سوالات کے جواب مستقبل قریب میں سامنے آ جائیں گے۔فی الوقت تو اس پارٹی کی قیادت نے یہی اعلان کیا ہے کہ وہ سیاسی تحریک نہیں ہے بلکہ سماجی تحریک ہے، جو طلبہ اور نوجوانوں کو درپیش مسائل کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس نوعیت کی سماجی تحریکیں بالآخر سیاسی طور پر خود کو منظم کر لیتی ہیں۔ خود کانگریس بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ایک سماجی تحریک کے طور پر ہی سامنے آئی تھی، جو بہت جلد ایک سیاسی جماعت میں بدل گئی۔ اس کے بعد بھی ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
بہرحال ایک سیاسی اشارہ تو بہت واضح ہے کہ کانگریس نے اس اتحاد کی بھرپور حمایت کرنے کے باوجود ان کے اسٹیج پر کھڑا ہونے سے گریز کیا اور اپنی جداگانہ شناخت کے ساتھ اپنے ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر تحریک کی حمایت کرتی رہی، جبکہ حزبِ اختلاف کی دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے جنتر منتر کا اسٹیج ہی استعمال کیا۔ خود کاکروچوں نے بھی اس پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ کانگریس مستقبل میں بھی اس قسم کی کسی نئی سیاسی صف بندی سے خود کو الگ رکھے گی۔ لیکن اس سے قطعِ نظرکہ ان نوجوانوں کا سیاسی مستقبل اور ملک کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تحریک نے ملک کی سیاست کو ایک اہم موضوعِ بحث دے دیا ہے، جس سے کوئی بھی سیاسی پارٹی اب منحرف نہیں ہو سکتی۔ تعلیم اور روزگار، مرکزی مسئلے کی حیثیت سے ملک کی عمومی سیاست یا انتخابات کا اصل موضوع اس سے پہلے کبھی نہیں بن سکے تھے، لیکن اب اسمبلی انتخابات سے لے کر پارلیمانی انتخابات تک شاید کوئی بھی پارٹی اس مسئلے سے صرف نظر نہ کر سکے۔ یہی اس تحریک کی سب سے بڑی اور اصل کامیابی ہے۔
مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد (سنبھاجی نگر) کے بے روزگار دلت طالب علم ابھیجیت دیپکے نے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ جملے کا شدید نوٹس لیتے ہوئے امریکہ کے بوسٹن میں اپنے کمرے سے بیٹھ کر سوشل میڈیا پر اس پارٹی کا اعلان کر کے ملک کے نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا، اور چند ہی گھنٹوں میں دو کروڑ سے زائد نوجوانوں نے اس پر اپنا ردِعمل ظاہر کر دیا۔ اس سے فوری طور پر یہ تو ظاہر ہو اکہ اس معاملے کو لے کر ملک بھر کا نوجوان کس قدر حبس کا شکار تھا اور اندر ہی اندر ناراض بھی تھا۔ دو کروڑ سالانہ نوکریوں کے بارہ سالہ انتظار اور گریجویشن کرنے کے بعد بھی چائے پکوڑے بیچنے کے مشوروں سے تو پہلے ہی عاجز تھا، رہی سہی کسر امتحانات میں مستقل اور روز افزوں بدعنوانی نے پوری کر دی۔ اس غصے اور بے چینی کو اچانک ایک پلیٹ فارم مل گیا، جو اتنا پرجوش تھا کہ اپنے مطالبات سے کم کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھا۔ مودی، مودی کے نعروں کے شور سے بدمست حکومت یہ بھانپ نہ سکی کہ اس بار مقابلہ کتنا سخت ہے۔ چنانچہ حسبِ عادت اس نے تحریک کو کچلنے کے تمام تر اقدامات کیے۔ خوشامد، لالچ، جبر، سب کا بے سود استعمال ہوا۔ میڈیا کو بھی حسبِ عادت استعمال کیا گیا۔ یہ تحریک ہلکی ہی رہتی اگر سونم وانگچک کو گرفتار نہ کیا جاتا۔ اس گرفتاری نے ہی نوجوانوں کا غصہ بھڑکا دیا۔ وہ لاکھوں کی تعداد میں جنتر منتر آ گئے۔ اس بڑھتی بھیڑ کو دیکھ کر ہی سیاسی جماعتیں بھی اس اسٹیج پر لپک پڑیں اور پھر جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔
دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جمہوریت ہو یا شہنشاہیت، عوامی احتجاج کے سامنے حکمرانوں کو جھکنا ہی پڑتا ہے۔ گزشتہ ساری تاریخ کا تجزیہ نہ بھی کریں تو محض سو سال میں 1917 کے روس میں زار کے خلاف بالشویک انقلاب کی کامیابی سے شروع ہو کر 1979 کے ایرانی انقلاب اور حال ہی کے سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال تک اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ 2011 کی بہارِ عرب میں تیونس اور مصر کی حکومتوں کا تختہ پلٹ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اس دوران محض ایک عوامی انقلاب کو کسی حد تک ناکام قرار دیا جا سکتا ہے، اور وہ 1989 میں چین کے بیجنگ کے تیانگ آن مِن چوک کا واقعہ تھا، جہاں تقریباً دس لاکھ نوجوانوں کی تحریک کو انتہائی ظالمانہ فوجی کارروائی کے ذریعے کچل دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ چینی فوج کے ٹینکوں اور بندوقوں نے کم از کم دس ہزار نوجوانوں کو قتل کر دیا تھا یا ٹینکوں تلے کچل دیا تھا۔ ہزاروں زخمی ہوئے اور اتنے ہی گرفتار بھی کیے گئے۔ ہر چند کہ عوام نے فوج کے خلاف مزاحمت میں کوئی کمی نہیں کی تھی، لیکن پھر بھی وہ اس بربریت کو روک نہ سکے۔
ساری دنیا نے اس خوفناک قتل عام کی شدید مذمت اور مخالفت کی، مگر چینی کمیونسٹ پارٹی نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ الٹا اس سے متعلق تمام خبروں کو زبردستی روک دیا گیا۔ آج بھی چین میں اس واقعے کا تذکرہ کرنے پر شدید پابندی عائد ہے، اسی لیے مظاہرین اور متاثرین کے حتمی اعداد و شمار منظرِ عام پر نہیں آ سکے۔ اس بربریت کی دوسری کوئی مثال آج تک دنیا کے سامنے نہیں آئی، لیکن اس کا ایک اثر یہ ضرور ہوا کہ چینی حکومت نے اپنی اقتصادی پالیسی میں واضح تبدیلیاں کیں اور عوام کو خوشحال بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے، جن سے چینی معیشت کو بھی آج دنیا کی مضبوط ترین معیشت بننے میں بہت مدد ملی۔ اس طرح اس تحریک کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی تھی۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم، جبر، استبداد اور قانون کو اقتدار کے زیرِ نگیں بنانے والوں کی عمر بہت قلیل ہوتی ہے۔ ایک بڑے دانشور نے کہا تھا کہ جس حکومت کے دائرۂ کار میں ناانصافی، جبر، حق تلفی اور ظلم روز کا دستور بن جائے، وہ حکومت دراصل اپنی موت کے محضرنامے پر دستخط کرتی ہے۔ یہاں بھی اگر ظلم کو قانون کا درجہ دیا جائے گا تو ہر آنے والا دن حکومت کی عمر کو مختصر کرتا رہے گا۔ دنیا کے اس فطری اصول کے تحت یہ سمجھنا چاہیے کہ ظالم سے ڈرنے کی نہیں بلکہ اس کے سامنے ڈٹ جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیشتر حکومتوں کے اختیار میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ چین کی طرح ایسی عدیم النظیر بربریت کا مظاہرہ کر سکیں، حالیہ ایام میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خود فوج اور پولیس نے عوام کے خلاف اقدام کرنے سے انکار کر دیا اور حکمرانوں کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ جنتر منتر پر بھی دیکھا گیا کہ پولیس کے غیر ضروری قوت کے استعمال کے باوجود ایسے وردی پوش بھی تھے جو ان اقدامات سے شرمسار تھے۔
ہمارے ملک کا وفاقی نظام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کی آزادی، اور ریاستی سطح پر الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومتیں، پولیس اور انتظامیہ کے مختلف رویے، ملکی سطح پر کسی جین زی تحریک کو کامیاب بنانے میں مفید نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے جو سیاسی جماعتیں جین زی کی تحریک کو کھڑا کرنے کے اشارے دیتی رہی ہیں، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ملک میں جمہوریت کی بنیادیں بہرحال ابھی تک بہت مضبوط ہیں اور حکومت کی تبدیلی عوامی رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے لیے عوام کو متاثر کرنے والا بیانیہ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ عمومی عوامی مسائل پر جمہوری تحریک ہی وہ بیانیہ تیار کر سکتی ہے اور عوام کو براہِ راست مخاطب کر کے ان کی رائے بدل سکتی ہے۔ نرم ہندوتوا، سخت ہندوتوا کے مابین مقابلے سے یہ کام کبھی نہیں ہو سکتا۔ یہ بات تمام سیاسی جماعتوں کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ آنے لگی ہوگی۔
کھلی آنکھوں سے سب نے دیکھا کہ حکومت نے میڈیا کے ذریعے پاکستان، چین اور ہندو مسلم سے اس کے تار جوڑنے کی بھرپور کوشش کی، مگر نوجوانوں نے اس کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں لیا۔ جھوٹ کی ہانڈی ایک ہی بار چڑھ سکتی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ تحریک میں شریک مسلم نوجوانوں کو ٹارگٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ مختلف مسلم علاقوں میں مسلم گھروں پر دبش ڈالنے کی خبریں بھی موصول ہوئیں، اور مظاہرے کے ایک نمایاں کارکن اور خادم کو تو ایک دن کے لیے غائب ہی کر دیا گیا۔ ان کے والدین کو بھی پریشان کیا گیا۔ بہار میں بھی کچھ غیر مسلم نوجوانوں کے غائب ہونے کی خبریں ہیں، لیکن اطمینان بخش بات یہ ہے کہ بہت سی تنظیموں نے اس قسم کے تمام واقعات پر بچوں کی قانونی امداد کے لیے آگے آنے کا عزم کیا ہے۔ امید ہے کہ تحریک کے قائدین بھی اس جانب توجہ دیں گے۔
اس پورے منظرنامے میں مسلمانوں کا کردار بھی مثبت ہی رہا۔ نوجوانوں نے انفرادی طور پر شرکت کی اور بھرپور تعاون بھی کیا، لیکن کسی شناخت کو لے کر کوئی سامنے نہیں آیا۔ یہی ضروری تھا۔ بہت سے اندیشوں اور خدشات کے باوجود اس تحریک کی اخلاقی حمایت مسلمان بھی کرتے رہے۔ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ دیپکے نے دھرنا ختم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ابھی پہلا وکٹ ہے۔ حزبِ اختلاف نے بھی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے ہیں۔ حکومت خود اپنے اندر سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ آر ایس ایس بھی واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ حکومت نے اقدام کرنے میں کافی تاخیر کی۔
اتر پردیش کے انتخابات سامنے ہیں، کئی دیگر وزراء پر بھی سوالات کھڑے ہیں۔ حکمران جماعت جس طرح اپوزیشن کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو توڑ کر اسی سیشن میں خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی کا قانون پاس کروانے کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، اس کو بھی دھچکا لگا ہے۔ ایک سال طویل کسان تحریک اور ایک ماہ کی طلبہ تحریک اگر حکومت کے نخرے ڈھیلے کر سکتی ہے تو ظاہر ہے کہ عوامی طاقت ابھی برقرار ہے اور اس سے ملک کے مستقبل کی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ ان سب حالات کا اصل سبق یہ ہے کہ سیاسی تحریکوں سے زیادہ عوامی اور سماجی تحریکیں مؤثر اور کارگر ثابت ہوتی ہیں۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )
arrifah@gmail.com