Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سیاست میں خواتین کی مضبوط نمائندگی کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سیاست میں خواتین کی مضبوط نمائندگی کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں*

*ویمن ریزرویشن کے موضوع پر اجلاس۔ صدر ٹی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

این سی آر ڈبلیو کے زیر اہتمام قانون ساز اداروں میں خواتین کے لئے ریزرویشن  کے موضوع پر حمایت نگر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو لازمی طور پر طاقتور عہدوں پر ہونا چاہئے کیونکہ سیاست میں مضبوط مقام حاصل کئے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے خصوص میں خواتین کے لئے اسپیشل ریزرویشن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض نوجوان خواتین رہنما یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ ریزرویشن کی ضرورت کیوں ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک حد تک آگے بڑھنے کے بعد خواتین کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں اسی لئے خواتین کو آئینی تحفظ کے تحت ریزرویشن دینا ضروری ہے۔کویتا نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں اور بڑے پیمانے پر تحریک چلائیں خواہ وہ نیکلس روڈ ہو یا دہلی کا رام لیلا میدان۔ خواتین کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ 33 فیصد ریزرویشن حاصل کئے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن ضرور حاصل ہوگالیکن اس کے لئے خواتین رہنماؤں کو بھی تیار کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لئے خصوصی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ خواتین ریزرویشن بل کی منظوری کے لئے23 -2022 میں جنتر منتر پر دھرنا دیا گیا اور 18 سیاسی جماعتوں کو اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے پر آمادہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھا اور بل کو منظوری ملی تاہم اب تک اس پر عمل درآمد میں تاخیر کی جا رہی ہے۔کویتا نے کہا کہ موجودہ نوجوان نسل میں شعور بڑھ چکا ہے اور وہ تمام طبقات کی نمائندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے۔انہوں نے او بی سی ریزرویشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین بل میں او بی سی خواتین کے لئے کوٹہ شامل کرنا ہے تو پہلے او بی سی ریزرویشن کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ اس وقت اس میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ او بی سی، خواتین اور اقلیتی رہنماؤں کی تعداد نہایت کم ہےخاص طور پر اقلیتی خواتین قیادت کو سامنے لانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایک سیاسی جماعت خواتین کو 33 فیصد ٹکٹ دیتی ہے تو دیگر جماعتیں متحد ہو کر اسے شکست دینے کی کوشش کرتی ہیں اس لئے خواتین کے لئے قانونی طورپرریزرویشن ہونا نہایت ضروری ہے۔کویتا نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کم از کم 33 فیصد نشستیں خواتین کو دے گی اور اگر موزوں قیادت دستیاب ہو تو 50 فیصد ٹکٹ دینے کے لئے بھی تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ووٹ کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور خواتین میں بڑھتی ہوئی بیداری کے پیش نظر انہیں مختلف اسکیموں کے ذریعے راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لئے خواتین کو واضح طور پر کہنا ہوگا کہ اگر خواتین بل پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو وہ ووٹ نہیں دیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کے طور پر وہ خواتین کے حقوق کے لئے پارٹی قائم کر کے جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے اور وہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کریں گی۔ کویتا نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایسی سیاست کریں گی جس پر خواتین کو فخر ہوگا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔