آسنسول میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 23 میں واقع شگون میریج ہال کے ٹینڈر کی منتقلی کو لے کر شدید تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ کل جب کارپوریشن کے افسران ٹینڈر جیتنے والی کمپنی ایم۔بی۔ انٹرپرائز کو ہال حوالہ کرنے پہنچے تو ترنمول کانگریس کی کونسلر سی۔کے۔ ریشما نے سخت اعتراض جتایا، جس کے بعد زبردست نوک جھونک ہوئی اور حوالگی کا عمل روک دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپنی نے سالانہ 8.08 لاکھ روپے کے عوض یہ ٹھیکہ حاصل کیا تھا اور چار ماہ قبل ہی پوری رقم جمع کر دی گئی تھی۔آج بی جے پی لیڈر کرشنندو مکھرجی نے کورٹ موڑ واقع پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترنمول کانگریس پر بدعنوانی کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دس سال بعد اچانک ٹینڈر نکالنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ دراصل میئر بدھان اپادھیائے اور ایک ریاستی وزیر کے درمیان اقتدار کی جنگ ہے، جس کا نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے یہ کمیونٹی ہال غریبوں کو صرف 500 روپے میں دستیاب تھا، مگر اب اس کی قیمت 25 سے 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مکھرجی نے وعدہ کیا کہ اگر بی جے پی کا ایم ایل اے منتخب ہوا تو یہ ہال صرف 2000 روپے میں دستیاب کرائے جائیں گے۔ اسی مسئلے پر کانگریس نے بھی گرجا موڑ دفتر میں پریس کانفرنس کی۔ کانگریسی رہنما شاہ عالم خان نے کہا کہ ریشما خود بھی ٹینڈر میں حصہ لے چکی تھیں، لیکن شکست کے بعد اب مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کی این جی او کو ایک دوسرا مرکز الاٹ کیا گیا تھا، مگر انہوں نے اس کی ادائیگی نہیں کی۔پرسنجیت پویتونڈی نے فروری میں دائر اپنی آر ٹی آئی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کمیونٹی ہال اب ترنمول لیڈروں کی آمدنی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔دوسری جانب کونسلر ایس۔ ایم۔ مصطفیٰ نے مطالبہ کیا کہ ٹینڈر جیتنے والی کمپنی کو فوری طور پر ہال حوالہ کیا جائے اور جو بھی رکاوٹ ڈالے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔دریں اثنا، تنازع بڑھنے پر میونسپل کارپوریشن نے ریشما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔میئر بدھان اپادھیائے نے کہا کہ ریشما کارپوریشن کی آمدنی کم کر کے ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ جائیداد کارپوریشن کی ہے، کسی کونسلر کی ذاتی ملکیت نہیں۔ اس معاملے میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ابھی تک ترنمول کانگریس کی طرف سے اس تنازع پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔










