صنعت بچاؤ، روزگار بچاؤ، ضلع بچاؤ اور بنگال بچاؤ— ایسے ہی نعرے تحریر کیے ہوئے بینر تھامے سیٹو کی مغربی بردوان ضلع کمیٹی کی جانب سے آج صنعتی علاقے جموڑیہ میں ایک شاندار پد یاترا نکالی گئی۔
اتوار کے روز یہ ریلی پنیاٹی ورکشاپ سے شروع ہوکر جموڑیہ بازار، جموڑیہ گرام، اکھل پور برج، شِیوڈانگا اور چانداموڑ کا چکر لگاتے ہوئے اختتام پذیر ہوئی۔ یاترا میں بڑی تعداد میں بائیں محاذ کے کارکنان اور حامیوں نے شامل ہوکر ’’بنگال بچاؤ‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ پد یاترا کی اگلی صف میں ڈی وائی ایف آئی کی ریاستی جنرل سکریٹری میناکشی مکھرجی اور پانڈیشور کے سابق ایم ایل اے گورانگ چٹر جی شریک تھے۔ میناکشی مکھرجی نے کہا کہ پورے بنگال میں آج مذہب کی سیاست عروج پر ہے۔ جن سیاسی پارٹیوں نے انتخابات سے پہلے نوجوانوں کو روزگار، آئین کی حفاظت اور ترقی کے وعدے کیے تھے، آج وہی نمائندے مندر–مسجد کی سیاست میں مصروف ہیں اور عوام سے کیے گئے وعدے بھول چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف بائیں محاذ ہی عوام کے مسائل اور حقوق کے لیے میدان میں اترتا ہے— خواہ وہ روزگار کا مسئلہ ہو، چھٹنی کے خلاف لڑائی ہو یا کارکنان کی قربانیاں۔ اسی لئے آج ہم کسان، مزدور، خواتین، نوجوان اور بستی تنظیموں کے تعاون سے ضلع بھر میں ’بنگال بچاؤ‘ پد یاترا کر رہے ہیں۔ پد یاترا میں موجود پانڈیشور اسمبلی حلقہ کے سی پی ایم کے سابق رکن اسمبلی گورانگ چٹر جی نے کہا کہ ضلع میں روزگار کی شدید کمی ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان تیزی سے بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین پر تشدد، کوئلہ چوری اور ریت مافیاؤں کی سرگرمیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں، اور ان تمام مسائل کی ذمہ داری بی جے پی اور ٹی ایم سی
عائد ہوتی ہے۔ پد یاترا نے عام لوگوں میں خاصا جوش پیدا کیا اور علاقے میں سیاسی ماحول گرم رہا۔










