*عثمانیہ یونیورسٹی کے موظف پروفیسر محمدانصاری ریٹائرمنٹ کے فوائد سے محروم*
*شدید علیل ہونے کے باعث علاج ومعالجہ کےلئے افراد خاندان عوامی عطیات کے حصول پر مجبور*
*حکومت کے رویہ پر کے کویتا کا اظہار افسوس۔فی الفور واجب الادا بقایہ جات کی ادائیگی کا حکومت سے مطالبہ*
صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے عثمانیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر محمدانصاری کی عیادت کی۔محمدانصاری بنجارہ ہلز کے ویل نیکس ریہابلیٹیشن سنٹر میں زیر علاج ہیں۔کویتا نے سابق پروفیسر محمدانصاری کی صحت کے تعلق سے ان کے افراد خاندان اور ڈاکٹرس سے تفصیلات حاصل کیں۔علاج کے حوالے سے بھی کویتا نے بات کی۔صدرتلنگانہ جاگروتی نے پروفیسرانصاری کی تعلیمی اور سماجی خدمات کی ستائش کی اور کہاکہ بطور پروفیسر اوربحیثیت عثمانیہ یونیورسٹی کے طالب علم محمدانصاری نے جامعہ میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا اور ہمیشہ طلبہ کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کےلئے جدوجہد کی۔کویتا نے کہاکہ پروفیسر انصاری نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نظام تعلیم کی بہتری اور حکومت کی غلط پالیسیوں کےخلاف جدوجہد میں صرف کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ سال 2023میں ریٹائرڈ ہونے کے باوجود پروفیسر انصاری کو اب تک ریٹائرمنٹ کے واجب الادا فوائد فراہم نہیں کئے گئے۔آج پروفیسر محمدانصاری شدید علیل ہیں اور ان کے علاج ومعالجہ کےلئے عوامی عطیات کا سہارا لینا پڑرہاہے۔کویتا نے کہاکہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ حکومت نے تاحال ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیاہے۔کویتا نے کہاکہ صرف پروفیسر انصاری ہی نہیں بلکہ تقریباً143 پروفیسرس ایسے ہیں جو اپنے ریٹائرمنٹ کے فوائد کے حصول کے منتظر ہیں۔علاوہ ازیں متعدد ریٹائرڈ اساتذہ اور سرکاری ملازمین بھی برسوں سے اپنے واجبات کے حصول کےلئے انتظار کررہے ہیں۔کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ تما م موظف ملازمین کو ان کے واجب الادا فوائد جلد از جلد فراہم کئے جائیں اور جو افراد طویل عرصہ سے منتظر ہیں انہیں فوری طور پر یقین دہانی کروائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے ساتھ تقاضائے انصاف کو ملحوظ رکھے اور ان کے حقوق کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائے۔










