صنعتی شہر آسنسول میں غیر قانونی کوئلہ اسمگلنگ معاملے کے مرکزی ملزم انوپ ماجی عرف لالا کو جمعرات کے روز خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ لالا اپنی سفید رنگ کی اسکارپیو گاڑی میں نجی سیکورٹی کے گھیرے میں عدالت پہنچے اور سیدھے عدالت کے کمرۂ سماعت میں داخل ہو گئے۔ ان کی پیشی کے پیش نظر صبح سے ہی عدالت کے احاطے میں خاصی گہماگہمی دیکھی گئی اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اس مقدمے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سب کی نظریں سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کی خصوصی عدالت کی کارروائی اور آئندہ آنے والے عدالتی حکم پر مرکوز رہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انوپ ماجی کی یہ پیشی قانونی طور پر نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے انہیں گرفتاری سے حاصل عبوری تحفظ (انٹرم پروٹیکشن) واپس لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو بڑی راحت دیتے ہوئے لالا کو 14 دنوں کی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اعلیٰ عدالت کا یہ سخت موقف تقریباً ایک ہفتہ قبل سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے تحقیقاتی ایجنسیوں کی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران قانونی ماہرین اور تفتیشی افسران کے درمیان اس بات کو لے کر بحث جاری رہی کہ سی بی آئی عدالت اس معاملے میں آگے کی کارروائی کے لیے کیا ہدایات جاری کرتی ہے۔ غیر قانونی کوئلہ اسمگلنگ کے اس بڑے نیٹ ورک کی تہہ تک پہنچنے کے لیے لالا سے ہونے والی پوچھ گچھ کو نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ عدالت کے فیصلے کے بعد تحقیقاتی ایجنسیاں انوپ ماجی کو حراست میں لے کر کون سے نئے حقائق سامنے لاتی ہیں اور اس پورے اسمگلنگ سنڈیکیٹ کی کڑیاں کس طرح جوڑی جاتی ہیں۔








