آسنسول کی ضلع عدالت نے غیر قانونی کوئلہ ضبطی مہم کے دوران سیکورٹی اہلکار پر حملے کے مقدمہ میں مرکزی ملزم باٹول گورائی کو 8 سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ 5 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ اضافی قید کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ سال 2021 میں مغربی بردوان ضلع کے بارابونی تھانہ علاقے کے خیراباندھ میں پیش آیا تھا۔ بدھ کے روز عدالت کے جج دیو پرساد ناتھ نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ 307 کے تحت سزا کا اعلان کیا۔
عدالتی و پولیس ذرائع کے مطابق، 9 مئی 2021 کو ای سی ایل کے سیکورٹی اہلکاروں نے غیر قانونی کوئلہ نکالنے اور اس کی ضبطی کے خلاف خیراباندھ علاقے میں مہم چلائی تھی۔ اسی دوران ای سی ایل کے سیکورٹی انسپکٹر دلیپ پرساد پر حملہ کیا گیا تھا۔ اطلاع ملنے پر حالات کو قابو میں کرنے کے لیے کی آئی ایس ایف کے جوان موقع پر پہنچے، تاہم ملزم اس سے قبل فرار ہو چکا تھا۔ واقعہ کے بعد ای سی ایل کی جانب سے بارابونی تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی گئی، جس کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے بٹول گورائی کو مرکزی ملزم نامزد کیا۔ مقدمہ کی سماعت آسنسول عدالت میں جاری رہی، جہاں مجموعی طور پر 10 گواہوں نے عدالت میں بیان قلمبند کرایا۔
سرکاری وکیل ابھیجیت بندوپاھیائے نے بتایا کہ منگل کے روز عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیا تھا، جبکہ بدھ کو سزا سنائی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حملے جیسے سنگین جرم میں سخت سزا ضروری ہے۔ اس فیصلے کے بعد علاقے میں اس معاملے کو لے کر خاصی بحث جاری ہے اور اسے غیر قانونی کوئلہ سرگرمیوں کے خلاف ایک اہم عدالتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔










