غیر قانونی کوئلہ اور بالو اسمگلنگ معاملے کی جانچ کر رہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی کارروائی تیز کرتے ہوئے بدبد تھانہ کے نو تعینات افسر انچارج (او سی) منورنجن منڈل کو طلب کیا ہے۔ ای ڈی نے انہیں سوموار کے روز کولکاتا کے سی جی او کمپلیکس واقع دفتر میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے، جہاں ان سے الزامات کے سلسلے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس معاملے میں مرکزی ایجنسی نے چنموئے منڈل کو بھی تفتیش کے لیے طلب کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں ای ڈی نے گزشتہ 3 فروری کو درگاپور سٹی سینٹر واقع منورنجن منڈل کی رہائش گاہ پر کئی گھنٹوں تک چھاپہ مار کارروائی اور تلاشی لی تھی۔ یہ کارروائی اسی دن ریاست کے تقریباً 10 سے 12 دیگر مقامات پر کی گئی بڑی چھاپہ مہم کا حصہ تھی۔ منورنجن منڈل اس سے قبل بارابنی تھانہ کے او سی رہ چکے ہیں، جہاں انہیں معطل بھی کیا جا چکا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ پورا معاملہ مبینہ طور پر غیر قانونی کوئلہ اور بالو کانکنی اور اس کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے سفید کرنے سے متعلق ہے۔ 3 فروری کو ہوئی کارروائی کے دوران منورنجن منڈل کے علاوہ کئی بااثر افراد اور کاروباری حضرات بھی ای ڈی کی نظر میں آئے تھے۔ جموڑیہ میں کاروباری بنسل کے ٹھکانوں پر بھی چھاپہ مارا گیا تھا۔ اسی طرح درگاپور کے سیپکو ٹاؤن شپ میں بالو تاجر پربیر دتہ اور ان کے بھائی امیت دتہ کے گھروں پر بھی تلاشی لی گئی تھی۔ اس کے علاوہ شیخ اختر، کرن خان، مرزا حسام الدین بیگ اور پانڈیشور کے نوگرام علاقے میں شیخ میجول کے ٹھکانوں پر بھی بیک وقت کارروائی کی گئی تھی ۔








