*مایوس تو وہ ہو، جس کا خدا نہ ہو!*
تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی
مایوسی ایک ایسی خاموش وبا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے اندر سرایت کر جاتی ہے۔ پہلے خیال کو کمزور کرتی ہے، پھر حوصلے کو کھا جاتی ہے، اور آخرکار امید کی شمع کو بجھا دینے پر تُل جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں خبر کا ہر عنوان، ہر اسکرین کی ہر سرخی، اور سوشل میڈیا کی ہر چیخ ہمیں یہی باور کرانے پر تُلی ہوئی ہے کہ حالات ہمارے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ غربت ہے، بے روزگاری ہے، ناانصافی ہے، بے یقینی ہے، خوف ہے۔ ایسے میں دل گھبرا جاتا ہے، آدمی سوچتا ہے کہ اب کیا بچے گا؟ مگر یہیں ایک سچ پوری قوت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: مایوس تو وہ ہو، جس کا خدا نہ ہو۔ جس کے دل میں خدا پر یقین زندہ ہے، اس کے لیے حالات چاہے جتنے بھی سنگین ہوں، دروازے بند نہیں ہوتے، راستے بدلتے ہیں۔
مایوسی دراصل ایمان کے چراغ پر پڑنے والی وہ گرد ہے جو اگر بروقت صاف نہ کی جائے تو روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ انسان جب بار بار ٹھوکر کھاتا ہے، جب اس کی محنت کا صلہ فوراً نہیں ملتا، جب خواب ٹوٹتے ہیں، تب دل میں ایک سوال سر اٹھاتا ہے: کیا میری دعا سنی جا رہی ہے؟ کیا میری کوششوں کی کوئی قدر ہے؟ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں یا تو انسان ٹوٹ جاتا ہے یا پھر سنبھل کر خود کو نئے سرے سے جوڑ لیتا ہے۔ ایمان ہمیں ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ خدا پر یقین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دیر ہونا ناکامی نہیں، رکاوٹ آنا خاتمہ نہیں، اور آزمائش آنا رحمت کے دروازے بند ہونے کی علامت نہیں۔
ہم نے اپنی روزمرہ زندگی میں مایوسی کو اتنا عام کر لیا ہے کہ اب یہ ایک کیفیت نہیں بلکہ ایک عادت بنتی جا رہی ہے۔ ذرا سی ناکامی ہو تو ہم خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک امتحان میں نمبر کم آ جائیں تو پورا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے۔ کاروبار میں گھاٹا ہو تو زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ رشتوں میں تلخی آئے تو دل مان لیتا ہے کہ شاید محبت نام کی کوئی شے باقی ہی نہیں رہی۔ یہ سب سوچیں ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ حالانکہ زندگی کا نظام کبھی ایک ہی لکیر پر نہیں چلتا۔ کبھی دھوپ، کبھی چھاؤں،یہی اس کا دستور ہے۔ جو اس حقیقت کو مان لیتا ہے، وہ مایوسی کو دل میں مستقل ٹھکانہ نہیں بنانے دیتا۔
خدا پر یقین عبادت گاہ تک محدود نہیں رہتا، یہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کا ہاتھ تھامنے والا سہارا بنتا ہے۔ جب سب دروازے بند نظر آئیں، تب یہی یقین ہمیں یہ ہمت دیتا ہے کہ شاید کوئی راستہ ابھی کھلا ہوا ہے جسے ہم نے غور سے نہیں دیکھا۔ جب آوازیں ہمیں ناکامی کا طعنہ دیں، تب دل کے کسی کونے سے یہ سرگوشی ابھرتی ہے: ہمت نہ ہار، رب کی رحمت وسیع ہے۔ یہی یقین انسان کو خود ترسی سے نکال کر عمل کی طرف لے آتا ہے۔ مایوسی انسان کو بیٹھنے پر مجبور کرتی ہے، ایمان انسان کو کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔
ہمارے سماج میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی کو دیکھ کر جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ فلاں آگے نکل گیا، میں پیچھے رہ گیا؛ فلاں کے پاس سہولتیں ہیں، میرے پاس نہیں؛ فلاں کی پہچان ہے، میری نہیں۔ ہم اپنے راستے کو دوسروں کے راستوں سے ناپنے لگتے ہیں۔ یہ موازنہ ہمیں احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ حالانکہ ہر انسان کا سفر الگ ہے، ہر ایک کی رفتار الگ ہے، اور ہر ایک کے لیے امتحان کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ خدا کسی کو کم نہیں دیتا، بس دینے کا وقت اور طریقہ بدل دیتا ہے۔ جو اس نکتے کو سمجھ لیتا ہے، وہ دوسروں کی کامیابی سے جلنے کے بجائے خود کو بہتر بنانے میں لگ جاتا ہے۔
مایوسی صرف فرد کا مسئلہ نہیں، یہ پورے سماج کو بیمار کرتی ہے۔ جب بڑی تعداد مایوسی کی گرفت میں آ جائے تو اجتماعی سطح پر بے حسی جنم لیتی ہے۔ لوگ یہ سوچ کر کنارہ کش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے کرنے سے کیا ہوگا؟ یہی سوچ ناانصافی کو مضبوط کرتی ہے، بدعنوانی کو جگہ دیتی ہے اور کمزور کو مزید کمزور بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس امید اجتماعی طاقت بن جائے تو فضا بدل سکتی ہے۔ ایک فرد کا حوصلہ دوسرے کے لیے سہارا بنتا ہے۔ ایک کی ہمت کئی دلوں کو زندہ رکھتی ہے۔ اس لیے خدا پر یقین صرف ذاتی نجات کا راستہ نہیں، یہ اجتماعی بیداری کی بنیاد بھی ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ دکھ حقیقی ہیں اور مسائل فرضی نہیں۔ کوئی بیمار ہے، کوئی مقروض ہے، کوئی بے روزگار ہے، کوئی رشتوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں صرف یہ کہہ دینا کہ “مایوس نہ ہو” کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم مایوسی کے اندھیرے میں امید کی چھوٹی سی شمع جلائیں۔ یہ شمع کبھی دعا کی صورت میں روشن ہوتی ہے، کبھی کسی اپنے کے ایک جملے میں، کبھی کسی نیک مشورے میں، اور کبھی خود اپنے دل کے اندر سے اٹھنے والی اس کمزور سی آواز میں جو کہتی ہے: ابھی سب ختم نہیں ہوا، ابھی کچھ باقی ہے۔ ایمان ہمیں اسی آواز کو سننے کی طاقت دیتا ہے۔
خدا پر یقین کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ دعا کے ساتھ دوا، امید کے ساتھ کوشش، اور یقین کے ساتھ جدوجہد،یہ تینوں مل کر زندگی کا توازن بناتے ہیں۔ جو صرف دعا پر تکیہ کرے اور عمل نہ کرے، وہ خود کو دھوکا دیتا ہے، اور جو صرف عمل پر بھروسہ کرے اور خدا کو بھول جائے، وہ غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اصل راہ وہی ہے جس میں انسان اپنی بساط بھر کوشش کرے اور نتیجہ خدا پر چھوڑ دے۔ یہی رویہ دل کو مایوسی سے محفوظ رکھتا ہے۔
مایوسی دراصل تھکے ہوئے دل کی فریاد ہے۔ اسے جھڑکنے کے بجائے سہارا چاہیے، اسے ملامت کے بجائے تسلی درکار ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑی تسلی یہی یقین ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ایک رب ہے جو دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، جانتا ہے۔ اس یقین کے ہوتے ہوئے دل میں اندھیرا مکمل نہیں پھیل سکتا۔ جس کے دل میں خدا پر یقین زندہ ہو، اس کے لیے ہر رات کے بعد ایک سحر ہے، ہر زخم کے بعد ایک مرہم ہے، اور ہر ٹھوکر کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ ہے۔
مضمون نگار، آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔






