*جیلانی خان کے اچانک چلے جانے سے قوم ایماندارانہ صحافت سے محروم ہو گئی ۔نعمان اسفر خان*
—————————————-
مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی مشہور صوبائی تنظیم آواز نے ملک کے مشہور صحافی جیلانی خان علیگ کے اچانک انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔آواز پسچھم بردوان ضلع کمیٹی کے فعال سکریٹری نعمان اسفر خان نے ایک بیان جاری کر کہا ہے کہ اردو کے مشہور صحافی جیلانی خان علیگ روزنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور ملک کے ایماندارانہ صحافت کے علمبردار تھے ۔آپ نے روزنامہ راشٹریہ سہارا سے اپنی صحافت کا آغاز کیا اور آپ بہت جلد لکھنؤ کے ہر خاص وعام کے دلوں پر راج کرنے لگے ۔آپ کے انتقال سے لکھنؤ کے ساتھ ملکی صحافت کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔آپ نے ملک کی مشہور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ۔آپ کا تعلق میرے آبائی وطن بنتارا ضلع اورنگ آباد بہار سے تھا۔آپ نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انگریزی صحافت سے اپنے کام کا آغاز کیا ۔بعد میں آپ نے روزنامہ راشٹریہ سہارا اور پھر روزنامہ انقلاب سے منسلک ہو گئے ۔میں اکثر ان کے مضامین پڑھتا رہا ہوں ۔آپ بڑی بیباکانہ انداز میں ایمانداری کے ساتھ ملک کے موجودہ صورتحال پر لکھتے رہے ہیں ۔آپ نے کبھی بھی کسی دباؤ میں کام نہیں کیا ۔ان کے مضامین اس کی مثال ہیں ۔مرحوم سے ہمارے ذاتی مراسم تھے ۔میں جب بھی لکھنؤ کے سفر پر ہوتا،مرحوم سے ملنے انقلاب کے دفتر جاتا۔آپ بڑے ملنسار اور خلیق صفت انسان تھے ۔آپ کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے انتقال پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ،سابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش سنگھ سمیت سینکڑوں صحافیوں،سماجی اور سیاسی شخصیتوں نے اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے ۔
تنظیم آواز بھی اپنے گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتی ہے ۔آواز ان کی اہلیہ،بچے،رشتہ داروں،دوست احباب،اہل بنتارا
اور اہل خانہ کے ساتھ اپنی پوری ہمدردی کا اظہار کرتی ہے ۔الله اہل خانہ کو صبر جمیل اور مرحوم کو جنت الفردوس میں کروٹ کروٹ جگہ عنایت فرمائے آمین










