Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر نفیس قدوائی کے انتقال سے تعلیمی دنیا کو بڑا نقصان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر نفیس قدوائی کے انتقال سے تعلیمی دنیا کو بڑا نقصان*

*آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کی نشست میں اظہارِ تعزیت، علمی خدمات کو خراجِ عقیدت*

لکھنؤ (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری):ممتاز ماہرِ تعلیم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر نفیس قدوائی کے انتقال پر آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کی ایک نشست میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ ان کی رحلت سے تعلیمی دنیا کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور ایک باوقار علمی شخصیت ہم سے جدا ہو گئی ہے۔
نشست کی صدارت فورم کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نفیس قدوائی نے طویل عرصے تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مختلف اہم ذمہ داریوں پر فائز رہتے ہوئے درس و تدریس کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ نہایت شفیق، مخلص اور علم دوست انسان تھے۔ طلبہ و اساتذہ میں ان کی مقبولیت اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ صرف ایک استاد نہیں بلکہ بہترین مربی بھی تھے۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ مرحوم کو تعلیم کے فروغ سے غیر معمولی لگاؤ تھا۔ علی گڑھ اور اس کے اطراف میں کئی تعلیمی اداروں کے قیام اور استحکام میں ان کا اہم کردار رہا۔ اپنے آبائی ضلع سیتاپور کے  قصبہ پینتے پور میں بھی انہوں نے اپنے بھائی ڈاکٹر شکیل قدوائی کے ساتھ مل کر تعلیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا۔ ان کی زندگی علم کی خدمت اور نئی نسل کی رہنمائی کے لیے وقف تھی۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر نفیس قدوائی کی علمی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور خوش اخلاقی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔
نشست میں موجود اراکین نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔نشست کا اختتام سورۂ فاتحہ اور دعائے مغفرت کے ساتھ ہوا۔یہ اطلاع آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔