*موجودہ کانگریس حکومت کسانوں کو رلا رہی ہے*
*ریاست تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی تفریق ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی*
*جو گو لامبا گدوال میں رعیتو سنگھرشن سبھا کا انعقاد۔صدر جاگروتی کویتا کی شرکت و خطاب*
*کلواکنٹلہ کویتا کا پرجوش اور والہانہ استقبال*

ضلع جوگولامبا گدوال میں ’’رعیتو سنگھرشن سبھا‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔ صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کسانوں کے مسائل، ذات پات کے امتیاز، قرض معافی، آبپاشی اور ریاستی سیاست پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔انہوں نے ناگر کرنول میں ذات پات کی بنیاد پر توہین اور تشدد کے نتیجہ میں دو ماہ کی شیر خوار لڑکی کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور سبھا میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ تلنگانہ میں اس قسم کی ذات پات کی تفریق ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔کویتا نے کہا کہ جوگولامبا اماور سے انہیں خصوصی عقیدت ہے اور آئندہ جاگروتی کا کوئی بھی بڑا پروگرام جوگولامبا گدوال سے ہی شروع کیا جائے گا کیونکہ نڈی گڈہ کے عوام دیانتدار اور نیک نیت ہیں۔
انہوں نےپروگرام میں شرکت کرنے والے فنکاروں اور خواتین کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں فنکاروں کا کلیدی کردار رہا ہے اور آئندہ سماجی تحریک میں بھی ان کا کردار اہم ہونا چاہئے۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسی شرط پر سبھا میں شریک ہوئیں کہ خواتین کسان بڑی تعداد میں آئیں، کیونکہ خواتین کے بغیر کوئی فصل تیار نہیں ہوتی اور وہ اپنی اولاد کی طرح کھیتی کی نگہداشت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقہ کا سیڈ کاٹن ملک بھر میں سپلائی ہوتا ہے، مگر کمپنیاں کسانوں کو ہراساں کر رہی ہیں اور بقایاجات ادا نہیں کر رہی ہیں۔ کلکٹر کے روبرو وعدوں کے باوجود ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک ہفتہ کے اندر سیڈ کاٹن کسانوں کو بقایاجات ادا کئے جائیں بصورت دیگر ریاست بھر کے کسانوں کے ساتھ گدوال میں احتجاجی دھرنا منظم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو آدھی رات بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس کے باعث انہیں سانپ اور بچھوؤں کے خطرات کے باوجود کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یوریا کی قلت پر تنقید کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ایپ کے ذریعہ بکنگ کا مشورہ دیا جا رہا ہے جبکہ کسانوں کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں ۔ پہلے حکومت سب کو آئی فون دے۔ پھر ایپ کی بات کرے۔
قرض معافی کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اقتدار میں آتے ہی سونیا جی کی سالگرہ کے دن قرض معافی کا اعلان کیا اور ریونت ریڈی نے ہر خاندان کو دو لاکھ قرض لینے کا مشورہ دیا مگر 40 لاکھ کسانوں میں سے صرف 25 لاکھ کو ہی فائدہ ملا، جب کہ 15 لاکھ کسان اب بھی منتظر ہیں۔ 50 ہزار اور ایک لاکھ قرض لینے والوں کو بھی راحت نہیں ملی۔ انہوں نے ہر کسان کے لئے مکمل قرض معافی کا مطالبہ کیا اور حکومت کو اعداد و شمار پر مباحثہ کے چیلنج کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کسان بھروسہ کو انتخابات کا تحفہ بنا دیا گیا ہے اور صرف انتخابات کے وقت کسان یاد آتے ہیں۔ سرپنچ انتخابات میں نارائن پیٹ کے قریب جی سری نواس بلا مقابلہ منتخب ہوئے اور میونسپل انتخابات میں وڈے پلی میونسپلٹی میں کامیابی حاصل ہوئی۔ گدوال سے جاگروتی کی جیت کا سفر شروع ہو چکا ہے۔کویتا نے کہا کہ ریاست میں ارکان اسمبلی پارٹی تبدیل کر رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ کامیاب نمائندوں کو اپنی جماعت میں شامل کر رہے ہیں۔ گدوال کے رکن اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ پریس کانفرنس کر کے واضح کریں کہ وہ کس جماعت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بی آر ایس سے معطل کیا گیا تو انہوں نے فوراً ایم ایل سی عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ سیاست کے لئے جرات اور نیک نیتی ضروری ہے۔انہوں نے آبپاشی منصوبوں تملا اور نٹیّم پاڈو کے کاموں کی سست رفتاری پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر یہی رفتار رہی تو نڈی گڈہ کو پانی کب ملے گا۔ بی آر ایس حکومت نے اس علاقہ کے ساتھ ناانصافی کی اور کانگریس حکومت بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ایسے نمائندے منتخب کرنے چاہئیں جو ان کے مسائل پر سوال اٹھائیں۔ جاگروتی عوام کے لئے ایک نیا ’’سیاسی ہتھیار‘‘ تیار کر رہی ہے جو نڈی گڈہ کو پانی دلانے والا ’’وجرآیودھ‘‘ ثابت ہوگا۔ انہوں نے رنجیت کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات میں انہیں کامیاب بنایا جائے۔ عوام سے کہا کہ اگر کوئی پیسے دے تو لے لیں کیونکہ وہ عوام کا ہی مال ہے، مگر ووٹ صرف عوام کی خدمت کرنے والوں کو دیں۔کویتا نے کہا کہ ’’کسان کے آنسوؤں سے ریاست ترقی نہیں کرتی‘‘ اور موجودہ حکومت کسانوں کو رلا رہی ہے، یہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کسانوں کے مسائل پر کلکٹر کو یادداشت پیش کی جائے گی اور جاگروتی کسانوں اور خواتین کے مسائل پر حکومت سے سوال کرتی رہے گی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ خواتین کو 2500 روپئے ماہانہ اور ایک تولہ سونا دینے کے وعدے پورے کئے جائیں۔










