نیلگیری،13 نومبر: آج اڈیشا کے محترم وزیراعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی نے اپنے دستِ مبارک سے نیلگیری سے مترپور تک منعقدہ 10 کلو میٹر طویل پیدل یاترا کا افتتاح کیا، جو مضبوط انسان سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں جینتی کے موقع پر اتحاد کے لیے دوڑ کے طور پر منظم کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ موصوف بھونیشور کے بیجو پٹنائک ہوائی اڈے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیلگیری پہنچے اور نیلگیری کالج میں بنائے گئے عارضی ہیلی پیڈ پر اترنے کے بعد جگن ناتھ مندر میں درشن کیا۔ درشن کے بعد وہ دیگر معزز مہمانوں کے ہمراہ پولیس گراؤنڈ میں منعقدہ مرکزی تقریب میں شریک ہوئے۔اس تاریخی موقع پر وزیراعلیٰ جناب موہن چرڻ ماجھی کے علاوہ اعلیٰ تعلیم، کھیل و نوجوان خدمات، ادیا زبان و ثقافت کے وزیر جناب سوریہ بنشی سورج، حکومت کے نائب چیف وہپ اور ریمونا کے رکن اسمبلی جناب گووند چندر داس، بالاسور کے رکن پارلیمان جناب پرتاپ چندر سرانگی، نیلگیری کے رکن اسمبلی جناب سنتوش کھٹوا، صدر بالاسور کے رکن اسمبلی جناب مانس کمار داتا، بڑساهی کے رکن اسمبلی جناب سَناتَن بجلی، سیمولیا کے رکن اسمبلی جناب پدملوچن پنڈا، ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن محترمہ شوبنا مہانتی، اور متعدد معزز دانشورانِ شہر جناب ایشور چندر بہیرا، ڈاکٹر پریدیپ کمار پنڈا وغیرہ موجود تھے۔تقریب کے آغاز میں ضلع کلکٹر جناب سوریہ بنشی مَیُور وکاش نے تمام معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ موصوف نے بھگوان جگن ناتھ اور سردار پٹیل کے مجسمے پر مالا چڑھائی۔ نیلگیری کے ایم ایل اے سنتوش کھٹوا نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی زندگی، ان کے نظریات اور قوم کی تعمیر میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ رکن پارلیمان پرتاپ چندر سارنگی نے نیلگیری کی تاریخی جدوجہد اور 565 ریاستوں کے انضمام میں سردار پٹیل کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نیلگیری سب سے پہلے بھارت میں ضم ہوا تھا۔وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اتحاد کے لیے دوڑ یا پیدل یاترا صرف ایک عام مارچ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ ملک کی سالمیت برقرار رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ نیلگیری کی تاریخ عوامی بیداری، جدوجہد اور قربانیوں سے بھری ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیلگیری کی تحریک عوامی عزتِ نفس، جمہوری شعور اور خودداری کی جیت تھی۔ آج کی یہ یاترا ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مذہب، ذات، زبان یا برادری سے بالاتر ہو کر ہم سب بھارتی ہیں — اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔وزیراعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کے نظریات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چار ستون — کسان، خواتین، غریب اور نوجوان میں نوجوان طبقہ سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔


انھوں نے موقع پر موجود سبھی شہریوں سے حب الوطنی کا حلف دلوایا اور کہا کہ ہم سب مل کر ایک مضبوط، خوشحال اڈیشا اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں لگیں گے۔وزیر سوریہ بنشی سُرَج نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا نوجوان تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کو آگے بڑھانے کا اصل معمار ہے۔ اختتام پر ضلع کلکٹر نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعلیٰ موصوف نے نیلگیری سے مترپور تک 9 کلو میٹر لمبی اتحاد یاترا کو پرچم دکھا کر روانہ کیا۔ اس مارچ میں ہزاروں طلبہ، نوجوان، شہری اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔ تقریب میں طلبہ نے 100 میٹر لمبا قومی پرچم تھام کر پروگرام کی شان بڑھائی۔ یہ یاترا دھوب شِلا، کیندوخنٹا اور مترپور ہوتے ہوئے اختتام کو پہنچی۔اختتامی تقریب میں رکن پارلیمان پرتاپ چندر سارنگی، ایم ایل اے سنتوش کھٹوا، ایم ایل اے سناتن بجلی، اور دیگر معزز دانشوروں نے شرکت کی اور اعلان کیا کہ اسی طرز کی پیدل یاترا پورے پارلیمانی حلقے کے دیگر علاقوں میں بھی منظم کی جائے گی۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔











