Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*وقف ترمیمی بل کے خلاف عوامی احتجاج شروع , اہلیان جہانگیری محلہ نےکالی پٹی باندھ کر ادا کی الوداع کی نماز*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آسنسول : مرکز میں بھاجپا کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے مسلمانوں کو طرح طرح سے پریشان کرنے کی کوششوں میں جٹی ہے ۔تازہ معاملہ وقف ترمیمی بل کی شکل میں سامنے آیا ہے۔مرکزی حکومت نے وقف کی املاک کو ہڑپنے کی سازش کے تحت پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیاہے جس کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ودیگر ملی تنظیموں نے مشترکہ طور پر احتجاجی سلسلہ جاری کررکھا ہے۔دہلی کے جنتر منتر اور پٹنہ کے گردنی میدان میں زبردست احتجاجی جلسے ہوچکے ہیں اور ائنیدہ 29مارچ کو وجئے واڑہ میں بھی احتجاجی جلسے کی تیاری زور شور سے جاری ہے۔اسی درمیان جمعرات کی دیر شب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ جمعتہ الوداع کے موقعے پر ملک بھر کے مسلمانوں سے اس کالے قانون کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لئے بازوؤں پرکالی پٹی باندھ کر مسجد آنے اور نماز ادا کرنے کی ہدایت جاری کی ۔اس ہدایت کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے جہانگیری محلہ مسجد کے امام وخطیب اور آسنسول ملی ویلفئیر سوسائٹی کے صدرمفتی شکیل الرحمٰن قاسمی کی قیادت میں سوسائٹی کے ارکان اور نوجوانان محلہ نےبڑی محنت و جانفشانی کرکے نہ صرف بازار سے کالی پٹی لائے بلکہ اسے تراش خراش کر جہانگیری محلہ قبرستان موڑ،یونین بینک،مسجد عثمان ،رحمانیہ اسکول موڑ اور جہانگیری محلہ مسجد اور اس کےاطراف میں موجود رہ کر نمازیوں کے ساتھ عام مسلم راہ گیروں اور آٹو وٹوٹو سے گذرنے والے مسافروں کے ہاتھوں میں کالی پٹی باندھے۔جہانگیری محلہ مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں مصلیان کرام کالی پٹی باندھ کر جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرتے نظر ائے۔ملی خبر کے مطابق دیگر کچھ علاقوں میں بھی لوگ انفرادی طور پر کالی پٹی باندھ کر الوداع کی نماز ادا کئے۔واضح ہوکہ وقف ترمیمی بل کے خلاف آسنسول ملی ویلفئیر سوسائٹی گزشتہ سال نومبر کے مہینے سے ہی آسنسول کے شمالی اور جنوبی علاقے میں عوامی بیداری مہم چلا رکھی ہے۔ آج اس تحریک کوجہانگیری محلہ کےہر گلی،کوچے،نکڑاور چوراہے پر پہنچانے میں سوسائٹی کے ارکان میں شامل حافظ زاہد مرتضیٰ ،محمد نیاز،سرفراز سورج،پرویزراجہ،حاجی شہزاد ظفر،حاجی محمد شمیم،حاجی محمد مرتضیٰ ،نسیم الیکٹرک،علی انصاری،شہنواز عالم،غلام محی الدین سونا ،محمد عمران،محمد خالد،غلام ربانی ،قیصر عارفی اورامتیازاحمد انصاری کے علاؤہ سرفراز خان،پنکو درپن،ساجد مرتضیٰ ،ظہیر بھاشانی ودیگر نوجوانوں کی کوشیش قابل ستائش رہیں۔