وقف بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہو چکا ہے۔ وقف بل کو لے کر پورے ملک میں ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ یہ بل اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 1995 کے ایکٹ میں ایسی بہت سی تبدیلیاں کی جاتیں تو ہم اسے قبول کر لیتے۔ وقف املاک کے انتظام کے علاوہ، بورڈ وقف میں ملنے والے عطیات سے تعلیمی اداروں، مساجد، قبرستانوں اور نائٹ شیلٹرز کی تعمیر اور دیکھ بھال کرتا ہے۔ اس مسئلہ پر انڈال علاقہ کے محسن آباد کمیونٹی ہال می قانونی دائرہ کار کے تحت ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا اور وقف بچاؤ کے بینر کے ساتھ زبردست احتجاج کیا گیا۔ ملک کی موجودہ صورتحال اور پارلیمنٹ سے وقف ترمیمی بل 2025 کی منظوری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت اتحاد ہے۔ انڈال میں بھی مظاہرین نے وقف بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وقف بل کے تحت وقف بورڈ اب کسی بھی جائیداد پر من مانی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ تنازعہ کی صورت میں اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور صرف پانچ سال سے اسلام کی پیروی کرنے والا شخص ہی وقف کو جائیداد عطیہ کر سکتا ہے۔ اس کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ وقف کی جائیداد کو کم کیا جائے اور ہم مسلمانوں کو کمزور کیا جائے اور ہمیں معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے رکھا جائے۔ انڈال وقف کمیٹی کے سکریٹری مصطفی خان نے کہا کہ اس بل کا مقصد مسلمانوں کی تذلیل کرنا ہے۔ ماسٹر فیض نے بتایا کہ کس طرح مرکزی حکومت نے اس بل کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق چھین لیے ہیں۔ اس موضوع پر ماسٹر منیر شامی، فیاض احمد، سلطان چوہدری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انڈال کے تمام بااثر لوگ، امین خان، محمود صاحب، ماسٹر نظام، زمل صاحب، ارشاد عالم، جمشید، راجہ، وغیرہ موجود تھے۔



















