پانڈیشور اسمبلی حلقے میں درگا پوجا سے قبل خواتین کے احترام کے نام پر بڑا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ مقامی ایم ایل اے نریندر ناتھ چکرورتی ایک طرف خواتین میں ساڑی تقسیم کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ان کی یہ پہل تنقید کی زد میں آگئی ہے۔
ویشنوپور اور آس پاس کے علاقوں کی خواتین نے الزام لگایا ہے کہ ایم ایل اے کی جانب سے دی گئی بیشتر ساڑیاں پھٹی اور میلی کچیلی تھیں۔ ناراض خواتین نے وہ ساڑیاں نریندر ناتھ چکرورتی کے سامنے ہی واپس پھینک دیں اور برملا کہا: ’’عزت کے نام پر توہین کیوں کی جا رہی ہے؟‘‘ اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
اسی دوران، درگا پوجا کے آغاز پر نریندر ناتھ چکرورتی نے ’درگا آغمن، خواتین کا احترام‘ پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر خواتین کو درگا کا روپ مانتے ہوئے آلتا اور سندور پیش کیا گیا اور ایم ایل اے نے خود ان کے قدم چھو کر آشیرواد لیا۔ پروگرام میں ثقافتی پیشکشیں اور دیوی وندنا نے ماحول کو مذہبی رنگ عطا کیا۔
ساڑی تقسیم تنازع کے بعد جہاں لوگ ایم ایل اے پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہیں خواتین کے احترام کے اس پروگرام کو لے کر کچھ لوگ ان کی پہل کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر معاملہ خوب گرم ہے—ایک طرف تنقید، تو دوسری طرف ستائش۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ درگا پوجا کے موقع پر خواتین کے احترام کی حساس پہل اچھی ہے، مگر ساڑی تقسیم جیسے اقدامات میں معیار اور شفافیت ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ایم ایل اے نریندر ناتھ چکرورتی اس تنازع پر کیا وضاحت پیش کرتے ہیں اور آگے ان کی حکمت عملی کیا رہتی ہے۔










