Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*پانی دو، ورنہ ووٹ نہیں — جموڑیہ کے کیندا موڑ پر عوام کا سڑک جام*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

اسمبلی انتخابات کا بگل ابھی بجا بھی نہیں، اس سے قبل علاقے کے باشندوں نے ووٹ بائیکاٹ کی سخت وارننگ دے دی۔ عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے “پانی دو، ورنہ ووٹ نہیں”۔ طویل گفت و شنید کے بعد انتظامیہ کی یقین دہانی پر دھرنا تو ختم ہوا، مگر عوام اپنے مطالبے پر بدستور قائم ہیں۔ منگل کی صبح جب قومی شاہراہ نمبر 14 اپنی معمول کی رفتار سے چل رہی تھی، اسی دوران جموڑیہ اسمبلی حلقہ کے تحت کیندا علاقے کے لوگوں نے کیندا پولیس چوکی سے چند قدم کے فاصلے پر کیندا موڑ کو پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف بند کر دیا۔ مظاہرین بار بار ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے: “پانی چاہیے، نہیں تو انتخاب میں ووٹ نہیں”۔ مقامی باشندوں کے اس احتجاج کی اطلاع ملتے ہی جموڑیہ پولیس اسٹیشن کی بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک بحث و تکرار جاری رہی۔ بعد ازاں انتظامیہ کی یقین دہانی پر سڑک جام ختم کر دیا گیا، تاہم مقامی لوگ اپنے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ علاقائی باشندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے پینے کے پانی کی شدید قلت ہے اور انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی مجبوری میں آج پورا گاؤں سڑک پر اترا ہے۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ روزانہ مناسب مقدار میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر آئندہ انتخابات میں وہ مکمل طور پر ووٹ بائیکاٹ کریں گے۔ دوسری جانب کیندا علاقے کے علاقائی صدر بیجو بندوپادھیائے نے پانی کے مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور جلد از جلد مسئلے کے حل کی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ یقین دہانی مل چکی ہے، مگر مقامی باشندوں نے خبردار کیا ہے کہ فوری حل نہ ہونے کی صورت میں وہ بڑے پیمانے پر تحریک شروع کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔