آسنسول کے جگت ڈیہہ گاؤں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف سوموار کے روز زبردست عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ طویل عرصے سے پانی کی کمی سے پریشان دیہاتیوں نے انتظامیہ کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے “پانی نہیں تو ووٹ نہیں” کا نعرہ بلند کیا۔ مظاہرین نے صاف لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے گھروں تک قانونی پینے کے پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ آئندہ انتخابات میں مکمل طور پر ووٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔ واضح رہے کہ جگت ڈیہہ گاؤں آسنسول میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 58 کے تحت آتا ہے، جہاں بوتھ نمبر 119 کے رہائشیوں نے اجتماعی طور پر ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب آسنسول میونسپل کارپوریشن اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اچانک گاؤں پہنچے اور مرکزی پائپ لائنوں سے لیے گئے مبینہ غیر قانونی پانی کے کنکشن کاٹنے لگے۔ اس کارروائی کے بعد مقامی لوگوں کا صبر جواب دے گیا۔ دیہاتیوں کا الزام ہے کہ وہ کئی بار انتظامیہ سے قانونی پانی کنکشن دینے کی درخواست کر چکے ہیں، مگر ان کی فریاد پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مجبوراً وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے قریبی مین پائپ لائنوں سے پانی لینے پر مجبور تھے، لیکن اب وہ سہولت بھی ختم ہو گئی ہے جس سے گاؤں میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ انتظامی کارروائی کے خلاف سینکڑوں دیہاتی سڑکوں پر اتر آئے اور زور دار نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اگر حکومت اور میونسپل کارپوریشن یہ بنیادی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہیں تو انہیں ووٹ مانگنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ دیہاتیوں نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ جب تک ہر گھر میں نل کے ذریعے پانی کی فراہمی نہیں ہوتی، اس وارڈ کے کسی بھی بوتھ پر کوئی ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرے گا۔ فی الحال علاقے میں کشیدگی کے ساتھ حالات پُرامن ہیں، جبکہ انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔








