رانی گنج کے وارڈ نمبر 34 کے آمراسوتا علاقہ کے لوگوں نے پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی اور قومی شاہراہ60 کو جام کر دیا۔ یہ انوکھا احتجاج پنجابی موڑ پھانڑی کے سامنے قومی شاہراہ پر کیا گیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریباً چھ سے سات ماہ سے ان کے علاقے میں پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی نہیں ہو رہی، جس کے سبب انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پانی حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو سائیکل یا گاڑی کے ذریعے وارڈ کے دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف ان کا وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ علاقہ آسنسول میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آنے کے باوجود اب تک پانی کی باقاعدہ سپلائی کیوں بحال نہیں کی گئی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کارپوریشن حکام فوری طور پر قدم اٹھائیں اور علاقے میں معمول کے مطابق آبی خدمات فراہم کریں۔
سنیچر کے روز تقریباً دوپہر بارہ بجے شروع ہونے والا یہ احتجاج تاحال جاری ہے۔ قومی شاہراہ کی بندش کے باعث ٹریفک متاثر ہوا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور مظاہرین کو یقین دہانی کرائی، تاہم علاقائی لوگ اس وقت تک احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں جب تک مسئلہ کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا اور وارڈ کونسلر کی جانب سے پانی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔








