Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*چترنجن میں آئی پی او ٹریڈنگ کے نام پر سائبر دھوکہ دہی، خاتون سے 31 لاکھ روپے کی ٹھگی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ریلوے شہر چترنجن میں ایک بار پھر سائبر فراڈ کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں آن لائن سرمایہ کاری اور آئی پی او ٹریڈنگ کے نام پر ایک خاتون سے 31 لاکھ 10 ہزار روپے ٹھگ لیے گئے۔ متاثرہ خاتون اسٹریٹ نمبر 85 باشندہ سومن پرکاش کی اہلیہ
ارچنا کماری ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ملزمان نے “یقینی منافع” کا لالچ دے کر ارچنا کماری کو ایک آن لائن سرمایہ کاری پلیٹ فارم سے جوڑا۔ ابتدا میں کم رقم لگا کر زیادہ منافع دکھایا گیا، جس کے بعد مرحلہ وار کئی لین دین کرائے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 16 اکتوبر سے 18 نومبر کے درمیان متاثرہ خاتون نے ملزمان کے بتائے گئے مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 31 لاکھ 10 ہزار لاکھ روپے منتقل کیے۔ سرمایہ کاری کے بعد کچھ ہی دنوں میں ایپ پر حیران کن اعداد و شمار ظاہر ہونے لگے، جن کے مطابق سرمایہ بڑھ کر 9 کروڑ 79 لاکھ 70 ہزار 342 روپے ہو گیا تھا۔ اس چمکدار رقم نے خاتون کا اعتماد مزید بڑھا دیا۔ تاہم 18 نومبر کو جب انہوں نے 50 لاکھ روپے نکالنے کی کوشش کی تو سارا معاملہ الٹ گیا۔ نہ صرف رقم منتقل ہوئی بلکہ انہیں واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا گیا اور لاگ اِن آئی ڈی بھی غیر فعال ہو گئی۔ اس کے بعد تمام رابطے منقطع ہو گئے اور دھوکہ دہی کا شبہ یقین میں بدل گیا۔ متاثرہ خاتون نے پہلے نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر شکایت درج کرائی، جس کے بعد آسنسول سائبر کرائم تھانہ میں تحریری شکایت دی گئی۔ پولیس نے مقدمہ نمبر 15/26 درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے نام پر سائبر فراڈ اس وقت جرائم کی سب سے مؤثر شکل بن چکا ہے۔ غیر معمولی اور تیز منافع کا لالچ دے کر عام لوگوں کو جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں آسنسول سائبر کرائم تھانے میں اس نوعیت کی سو سے زائد شکایات درج ہو چکی ہیں، جن میں کروڑوں روپے کی ٹھگی کے معاملات شامل ہیں۔ پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ نامعلوم لنکس، واٹس ایپ گروپس یا غیر منظور شدہ ایپس کے ذریعے سرمایہ کاری سے پہلے مکمل جانچ ضروری ہے، ورنہ نقصان یقینی ہے۔ چترنجن کا یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لے آیا ہے کہ “کم وقت میں زیادہ منافع” کا لالچ اکثر تباہی کا سبب بنتا ہے۔