لکھنؤ(پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری): سعودی عرب میں پیش آئے ایک افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان روی گوپال کی میت آج صبح چودھری چرن سنگھ اموسی ایئرپورٹ، لکھنؤ پہنچی، جہاں سے اسے ضلع سیتاپور کے قصبہ محمود آباد کے گاؤں بگھائن کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس موقع پر اہلِ خانہ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ افراد موجود رہے اور فضا سوگوار رہی۔
تفصیلات کے مطابق تقریباً 25 سالہ روی گوپال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ریوا پلاسٹک فیکٹری میں ملازمت کرتے تھے۔ گزشتہ 18 مارچ کو فیکٹری پر میزائل گرنے کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی، جس سے اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ کم عمری میں پیش آنے والا یہ المناک حادثہ پورے علاقے کے لیے باعثِ رنج و افسوس ہے۔

میت کی وطن واپسی کے لیے سیتاپور کی ضلع انتظامیہ کی جانب سے پیشگی انتظامات کیے گئے تھے۔ نائب تحصیلدار اور ایک پولیس سب انسپکٹر کی نگرانی میں ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا تھا، جو صبح سے ہی ایئرپورٹ پر موجود رہی۔ متوفی کے بڑے بھائی منموہن سمیت دیگر اہلِ خانہ بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق سابق کارگزار وزیرِ اعلیٰ اور آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے رات ہی میں ایئرپورٹ کے اعلیٰ افسران، جن میں اظہر یوسف اور فلائی ناس کے جنرل منیجر شامل ہیں، سے رابطہ قائم کیا، جس کے نتیجے میں میت کی منتقلی کے تمام مراحل بآسانی مکمل ہوئے۔ فلائی ناس کے نمائندہ افسران بھی اس موقع پر موجود رہے اور ضروری کارروائی میں تعاون کیا۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متوفی کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ یہ سانحہ نہایت دلخراش ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جن کی ہدایات کے تحت فوری کارروائی عمل میں آئی اور میت کو جلد از جلد وطن لایا جا سکا۔ انہوں نے متوفی کے بھائی منموہن اور اہلِ محمود آباد کی جانب سے بھی حکومتِ ہند کے تئیں اظہارِ تشکر کیا۔
مزید برآں ڈاکٹر رضوی نے ایک مکتوب کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ ریوا پلاسٹک فیکٹری کے مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ متوفی کے اہلِ خانہ کو کم از کم ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ فراہم کریں، تاکہ متاثرہ خاندان کی کفالت ممکن ہو سکے۔
علاقے کے عوام نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیرونِ ملک کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی










