Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ڈپٹی مئیر وسیم الحق اور کونسلر ایس ایم مصطفیٰ کانام بھی زیرسماعت ووٹروں میں شامل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

**جاری ووٹرلسٹ سے مسلم علاقوں میں پھیلی بےچینی، پریشان حال ووٹرس بنے ہیں سراپا سوال*

*امتیاز احمد انصاری* ، آسنسول

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر کا مرحلہ جیسے تیسے  کسی طور پر حل کئے جانے کے بعد بالآخر ہفتہ کے دن ووٹر لسٹ جاری کردیا۔ نیاووٹرلسٹ جاری ہونے کے بعد ایک بار پھر سے سیاسی گلیاروں میں بحث ومباحثہ شروع ہوگیا ہے اور عام ووٹروں کے اندر ایک انجانا خوف پیدا ہوگیا ہے کہ آیا ان کانام فائنل  ووٹرلسٹ میں شامل ہوپائے گا یا نہیں۔۔۔؟ کیونکہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران ایک بڑی تعداد میں ووٹروں کو نوٹس دے کر شنوائی کے لئے بلایا گیا تھا۔حیران وپریشان ووٹرس اپنا سب کام کاج چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ دستاویزات کے ساتھ شنوائی مراکز پہنچے اور کھلے آسمان کے نیچے دھوپ میں جلتے ہوئےلمبی لمبی قطاروں میں لگ کر اپنی دستاویزات اس امید پر جمع کئے تھے کہ ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا مگر جب سنیچر کے دن ووٹرلسٹ جاری کیا گیا تو ایسے زیادہ تر لوگوں کے نام زیر سماعت  (Adjudication)کی فہرست میں نظر ائے۔ذرائع سے ملی خبر کے مطابق پچھم بردوان ضلع کے آسنسول اتر اسمبلی حلقہ کے سب سے زیادہ تقریباً 28ہزار ووٹروں کے نام زیرسماعت میں شامل ہے۔وارڈ نمبر 28کے ایک ووٹر ماسٹرساجد مرتضیٰ جن کا نام بھی زیرسماعت ووٹر کی فہرست میں شامل ہے، انہوں نے بتایا کہ خود ہمارے پارٹ کے بی ایل اوماسٹر علی انصاری  جنہوں نے پورے پارٹ کے ایسے ووٹرجنہیں شنوائی کے لئےکمیشن کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا تھا، ان تک نوٹس پہنچائے، ان کے دستاویزات شنوائی مرکز میں موجود رہ کر کمیشن کے سائٹ پر اپ لوڈ کئے حیرت انگیز طور پر ان کا، ان کے بھائی اور بہن کا نام بھی جاری ووٹرلسٹ میں زیر سماعت دکھائی دے رہا ہے ۔ایک دوسرے ووٹر محمد نسیم اختر نے بتایا کہ اس اسمبلی حلقہ کے ریلپار علاقے میں شاید ہی کوئی ایسی مسلم فیملی بچی ہو جس گھر کا کوئی ووٹر زیرسماعت کی فہرست میں شامل نہ ہوں۔ ہوں لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہر فیملی سے ایک یا دو یا کئی کئی ووٹر کو زیرسماعت بناکر دعوت نہ دی ہو۔حیرت انگیز طور آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق اور وارڈ نمبر 25 کے کونسلر ایس ایس ایم مصطفیٰ کے نام بھی زیر سماعت ووٹروں کی فہرست میں شامل ہونے سے سیاسی چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔وسیم الحق سے اس بابت پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کس طرح کام کررہا ہے اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ تین بار کے منتخب عوامی نمائندہ کانام زیر سماعت ووٹر کی فہرست میں شامل ہے حالانکہ شنوائی مرکز میں بذات خود پہنچ کر  تمام تر دستاویزات جمع کیا گیا تھا۔ادھر کونسلرایس ایم مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ جب کارپوریشن کےڈپٹی مئیر صاحب اور خود ان کانام زیر سماعت ووٹروں میں شامل ہے تو عام ووٹروں کا کیا کہنا۔ ایس ایم مصطفیٰ نے عام ووٹروں کو ذہنی وجسمانی پریشانی میں مبتلا کرنے پرجہاں ایک طرف الیکشن کمیشن کے زمہ داران افسران پر نشانہ سادھا وہیں دوسری طرف کچھ بی ایل اوکے کام کے طریقہ کار پر بھی انگلی اٹھایا ہے۔حالانکہ اس سچائی سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ ریلپار کے تقریبا تمام بی ایل او ایس آئی آر کا کام مکمل ہونے کے بعد ووٹرلسٹ شائع ہونے سے پہلے پہلے تک آسنسول کورٹ میں واقع الیکشن سیل میں سارا سارا دن موجود رہ کر اپنے اپنے پارٹ کے ووٹروں کی دستاویزات کو کمیشن کے سائٹ پر اپ لوڈ کر آئے مگر پھر اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کا زیرسماعت ہونا بہت سارے سوالات پیدا کررہے ہیں۔ ادھر الیکشن کمیشن کے زمہ داران کا کہنا ہے کہ زیرسماعت ووٹروں کی دستاویزات کی گہرائی سےجانچ کی جارہی ہے۔دستاویزات صحیح پائے جانے پر ان کے نام اضافی (Supplimentary) ووٹرلسٹ میں مرحلہ وار شامل کرلیا جائے گا ۔ اب ایسے تمام ووٹر جن کا نام زیرسماعت فہرست میں شامل ہے وہ بڑی بے چینی کے ساتھ اضافی ووٹرلسٹ کے شائع ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔