آسنسول درگا پور پولیس کمشنریٹ کے تحت ہیراپور تھانہ علاقہ کے ڈولی لاج سے ایک بڑا سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ مقامی باشندہ تپن کمار ماجی نے الزام لگایا ہے کہ خود کو پولیس اور سی بی آئی کا افسر بتانے والے افراد نے انہیں ڈرا دھمکا کر ایک کروڑ 27 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم اینٹھ لی۔
شکایت کنندہ کے مطابق 4 اگست کو انہیں ایک شخص کا فون آیا جس نے خود کو راہل رائے، ڈی جی سی اے کا افسر بتایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ماجی کے آدھار نمبر پر ممبئی میں موبائل سم جاری ہوا ہے اور کینرا بینک میں کھاتا کھولا گیا ہے، جس میں مشکوک لین دین ہوا ہے۔ بعد ازاں ایک اور واٹس ایپ کال پر دھوکے باز نے پولیس کی وردی میں شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ، ڈیبٹ کارڈ اور فرضی عدالتی دستاویزات دکھا کر متاثرہ کو یقین دلا دیا کہ ان پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنڈنگ کا الزام ہے۔
الزام ہے کہ اس دوران متاثرہ کو بتایا گیا کہ انہیں ’ڈیجیٹل طور پر گرفتار‘ کر لیا گیا ہے۔ 4 اگست سے 13 اگست تک واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے انہیں لگاتار نگرانی میں رکھا گیا اور خوفزدہ کر کے 13 قسطوں میں کل 1,27,04,332 روپے جمع کرائے گئے۔
بعد میں متاثرہ کو جب حقیقت کا احساس ہوا تو انہوں نے سائبر تھانہ میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے معاملہ درج کر کے بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کو بارہا آگاہ کیا جاتا ہے کہ ڈیجیٹل گرفتاری جیسا کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ صرف ایک فریب ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک فون یا واٹس ایپ کال کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں۔





























