پچھم بردوان ضلع کے کانکسا علاقے میں ایک خوفناک سڑک حادثے میں دو بائیک سواروں کی موت ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ مہلوکین کی شناخت سہدیب (سنیاسی) گھوش (55) اور شبھجیت منڈا (21) کے طور پر ہوئی ہے۔ سہدیب گھوش کا گھر ریل پاڑہ میں تھا جبکہ شبھجیت منڈا کا گھر آئیلا پاڑہ میں بتایا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق سہدیب گھوش کی شیلَم پور میں ایک کریانہ کی دکان تھی۔ منگل کی دوپہر وہ روز کی طرح دکان بند کر کے بائیک سے اپنے گھر ریل پاڑہ واپس جا رہے تھے۔ انہوں نے ہیلمٹ بھی پہن رکھا تھا اور آہستہ رفتار سے جا رہے تھے۔ اسی دوران شیلَم پور سے کانکسا کے آنندپور موڑ کو پار کرنے کے بعد سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار بائیک نے انہیں زور دار ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ ہیلمٹ پہننے کے باوجود سہدیب گھوش کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ اطلاع ملنے پر کانکسا تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ دوسری طرف مقامی لوگوں نے شدید زخمی حالت میں شبھجیت منڈا کو پہلے پاناگڑ بلاک پرائمری ہیلتھ سنٹر پہنچایا، مگر حالت بگڑنے پر اسے درگاپور سب ڈویژنل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
پولیس نے دونوں مہلوکین کی لاشیں قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال کے مردہ خانے بھیج دی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ریل پاڑہ سے شیلَم پور جانے والی سڑک پر اکثر تیز رفتار بائیکیں چلتی ہیں کیونکہ سڑک زیادہ تر خالی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں حادثات کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق زور دار آواز سن کر لوگ موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ دو بائیکوں میں شدید ٹکر ہوئی ہے۔ ایک شخص خون آلود حالت میں سڑک پر ہی مردہ پڑا تھا جبکہ دوسرا سڑک کے کنارے شدید زخمی حالت میں پڑا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تصادم کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شبھجیت منڈا کی بائیک ٹکر کے بعد سڑک کے کنارے سے میدان میں جا گری۔ سہدیب گھوش نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا جبکہ شبھجیت منڈا نے ہیلمٹ نہیں پہنا تھا۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ شبھجیت منڈا نشے کی حالت میں کسی اور کی بائیک لے کر شیلَم پور جا رہا تھا اور لاپرواہی سے بائیک چلانے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔
حادثے کی اطلاع ملنے پر کانکسا ٹریفک گارڈ اور کانکسا تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور صورتحال کو قابو میں کیا۔ پولیس نے لاشیں برآمد کرنے کے ساتھ دونوں تباہ شدہ بائیکوں کو ہٹا کر سڑک پر ٹریفک کو دوبارہ بحال کر دیا۔ اس المناک حادثے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ مقامی باشندوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سڑک پر گاڑیوں اور بائیکوں کی رفتار کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔








