Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کلٹی میں بی سی سی ایل کی داماگڑیا اوپن کاسٹ کان میں دھنسان، تین افراد ہلاک، پوسٹ مارٹم کے بغیر لاشیں ہٹانے کا الزام*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

کلٹی تھانہ علاقہ کے تحت بی سی سی ایل (BCCL) کی داماگڑیا اوپن کاسٹ پروجیکٹ (OCP) کان میں منگل کے روز غیر قانونی کوئلہ نکالنے کے دوران ایک دلخراش حادثہ پیش آیا۔ کوئلہ نکالتے وقت کان کا ایک حصہ اچانک دھنس گیا، جس کے ملبے میں دب کر تین افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ الزام ہے کہ یہ افراد کوئلہ چوری کی نیت سے کان میں داخل ہوئے تھے، اسی دوران یہ حادثہ رونما ہوا۔
معاملے میں سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ مہلوکین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی وہاں سے ہٹا لیا گیا، جس سے کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
بدھ کے روز چورنگی پولیس پھانڑی کے انچارج کارتک بھوئی کی قیادت میں پولیس فورس اور سی آئی ایس ایف کے اعلیٰ افسران نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ حکام نے اس مقام کا باریکی سے جائزہ لیا جہاں حادثہ پیش آیا تھا۔ میڈیا کے سامنے زیادہ کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے سی آئی ایس ایف کے افسران نے صرف اتنا بتایا کہ حادثہ کا مقام انتہائی حساس اور خطرناک علاقہ ہے، جہاں عام لوگوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود یہ افراد وہاں تک کیسے پہنچے۔
داماگڑیا پروجیکٹ کے افسر دھرمیندر تیواری نے بتایا کہ کان کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں حادثہ پیش آیا وہاں تقریباً 50 فٹ اونچی دیوار اور خاردار تاروں کا مضبوط گھیراؤ موجود ہے۔ ساتھ ہی عوام کو غیر قانونی کان کنی کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے مسلسل تشہیری مہم بھی چلائی جاتی ہے، اس کے باوجود لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر وہاں داخل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ جب بھی انتظامیہ غیر قانونی کانوں یا سرنگوں کو بند کرنے کی کوشش کرتی ہے تو مقامی لوگ احتجاج کرکے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ پروجیکٹ افسر کے مطابق غیر قانونی کوئلہ نکالنے کو روکنے کے لیے کولیری انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن عوامی تعاون کے بغیر اس پر مکمل طور پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پولیس نے معاملے کی گہرائی سے تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے افسوسناک حادثات کو روکا جا سکے۔