آسنسول صنعتی علاقے کی زمین کے نیچے موجود کوئلے کے بڑے ذخائر کو نکالنے کا کام مختلف ٹھیکیدار کمپنیوں کو دیا گیا ہے۔ تاہم مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ اس کام میں زیادہ تر بیرونی افراد کو روزگار دیا جا رہا ہے اور مقامی بے روزگار نوجوانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر جمعہ کے روز ای سی ایل کے بنجماری کولیری کے ایجنٹ دفتر کے سامنے برابھوی گاؤں کے باشندوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب یہاں کوئلہ نکالنے کا منصوبہ شروع ہوا تھا تو مقامی آدیواسی اور بے روزگار نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں اس وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور نعرے درج بینر لے کر دیندوا سے ایک جلوس نکالا اور ایجنٹ آفس کے سامنے جمع ہو کر زبردست احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کی کان ان کے علاقے میں واقع ہے، اس لیے روزگار پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہونا چاہیے۔ ایجنٹ آفس کے افسر کی غیر موجودگی میں گاؤں والوں نے کولیری کے منیجر کے حوالے اپنا میمورنڈم پیش کیا۔ اس موقع پر منیجر دیپک تنوار نے کہا کہ گاؤں والوں کے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم اعلیٰ حکام کو بھیج دیا جائے گا۔ دوسری جانب مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک انہیں مقامی نوجوانوں کو روزگار دینے کی تحریری یقین دہانی نہیں ملتی، تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔







