*ہمایوں کبیر: ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن*
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن
علامہ اقبال نے یہ شعر آج سے ایک صدی قبل کہا تھا؛ مگر ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے آج کے بنگال کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تھا۔ میر جعفر نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کو انگریزوں کے ہاتھوں فروخت کیا اور میر صادق نے دکن کے شیرِ میسور شہید ٹیپو سلطان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اقبال نے انہیں ابدی رسوائی کا لقب عطا کیا: ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ غداری کوئی نئی ایجاد نہیں؛ یہ اس سرزمین کے کچھ کرداروں کی موروثی بیماری ہے۔ آج 2026 میں مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے سابق ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے ثابت کر دیا کہ میر جعفر کی نسل ابھی ختم نہیں ہوئی، صرف نام اور لباس بدلے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاست کا میدان ہمیشہ سے ایسے کرداروں کی آماجگاہ رہا ہے جو بظاہر قوم کے درد کا مرہم بن کر آتے ہیں اور پسِ پردہ اپنی تجوری بھرتے رہتے ہیں۔ لیکن مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے سابق ایم ایل اے ہمایوں کبیر کی داستان اس عام روایت سے بھی بڑھ کر ہے، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ داستان دغا و فریب کی اس انتہا کو چھوتی ہے جہاں پہنچ کر انسان آدمیت، دین اور وطن ان تینوں کے ساتھ بیک وقت غداری کر بیٹھتا ہے۔ جب کوئی شخص مذہبی جذبات کو ڈھال بنا کر ملت کے سینے میں خنجر گھونپے، جب قوم کے آنسوؤں کو بازار میں بیچے، اور جب جمہوریت کی آبرو کو سکوں میں تولے تو تاریخ اسے صرف ایک ہی لقب دیتی ہے: ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن۔
ہمایوں کبیر کا سیاسی سفر خود اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ ان کے نزدیک نہ کوئی نظریہ ہے، نہ کوئی اصول صرف مفاد ہے اور موقع پرستی ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس سے کیا، جہاں وہ سابق رکنِ پارلیمان ادھیر رنجن چودھری کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ پھر جب ترنمول کانگریس نے بنگال میں بائیں بازو کی 34 سالہ حکومت کا قلعہ فتح کیا تو کبیر صاحب فوراً ممتا بنرجی کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ ممتا بنرجی نے انہیں وزارت کا منصب بھی عطا کیا، مگر تھوڑے ہی عرصے میں جماعت مخالف سرگرمیوں کے باعث انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ یہاں تک تو ان کی داستان ایک عام موقع پرست سیاست دان کی داستان تھی، لیکن 2018 میں ہمایوں کبیر نے وہ قدم اٹھایا جو ان کی اصل نیت کا آئینہ تھا انہوں نے اسی بی جے پی کا دامن تھام لیا جسے وہ خود مسلمانوں کا ازلی دشمن قرار دیتے رہے تھے۔ اس کے بعد سماج وادی پارٹی میں قیام کیا، آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا، 2021 میں پھر ٹی ایم سی کی گود میں بیٹھ گئے یہ تھا وہ نام نہاد اصول پسند رہنما جسے بعد میں مسلمانوں کی آزاد سیاسی آواز بنا کر پیش کیا جانے والا تھا۔
دسمبر 2025 میں ہمایوں کبیر نے اعلان کیا کہ 6 دسمبر کو جو بابری مسجد کی شہادت کا وہ کربناک دن ہے جو لاکھوں مسلمانوں کے دلوں پر آج بھی ایک زخم کی طرح تازہ ہے وہ مرشدآباد میں بابری مسجد کی طرز پر ایک نئی مسجد کی بنیاد رکھیں گے۔ اس اعلان نے پورے مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی ایک لہر دوڑا دی۔ ترنمول کانگریس نے فوری طور پر انہیں معطل کر دیا اور فرہاد حکیم نے صاف الفاظ میں کہا کہ کبیر فرقہ وارانہ سیاست کے دلدل میں دھنس گئے ہیں اور جماعت ایسی سیاست کی سخت ترین مخالف ہے۔ معطلی کے چند ہی گھنٹوں میں کبیر نے اعلان کیا کہ وہ نئی جماعت بنائیں گے، اپنا پروگرام جاری رکھیں گے، چاہے گرفتاری ہو، چاہے جان جائے۔ یہ الفاظ سننے میں غیرت و حمیت کی دلکش تصویر لگتے تھے مگر آنے والے مہینوں نے ثابت کر دیا کہ یہ صرف ایک اور اداکاری تھی۔ بابری مسجد جو لاکھوں مسلمانوں کی مشترکہ اذیت کی علامت ہے، جو ان کی تاریخی بے بسی کا زندہ استعارہ ہے اسے ایک چالاک سیاست دان نے محض ووٹ بٹورنے کی ڈھال بنا لیا۔ دردِ دین ہرگز نہ تھا، دردِ دکان تھی۔
ٹی ایم سی سے علیحدگی کے بعد کبیر نے عام جنتا انیان پارٹی (AJUP) کے نام سے اپنی نئی جماعت تشکیل دی اور اسدالدین اویسی کی آل انڈیا مجلسِ اتحادِ المسلمین نے اس نئی جماعت سے انتخابی اتحاد کر لیا۔ دونوں نے مل کر بنگال کی 135 نشستوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا اور اسے مسلمانوں کی آزاد سیاسی آواز کا نام دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک باوقار سیاسی اتحاد تھا مگر درحقیقت یہ اس سازش کا ظاہری خول تھا جس کے اندر ایک اور ہی کہانی پک رہی تھی۔ اسی اثنا میں مئی 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کبیر کا وہ بیان بھی یاد رہنا چاہیے جب انہوں نے کھلے عام کہا تھا کہ مرشدآباد میں ہم ستر فیصد ہیں، اگر میں نے بی جے پی حامیوں کو دو گھنٹوں میں بھاگیرتھی ندی میں نہیں پھینکا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ یہ وہی شخص ہے جو بعد میں مبینہ طور پر اسی بی جے پی کے ساتھ ہزار کروڑ کی سودے بازی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کے حامیوں کو ندی میں پھینکنے کی باتیں کی جاتی تھیں، اسی کی جیب سے پیسے وصول کرنے کے الزامات لگتے ہیں یہ تضاد کسی بھی غیرت مند ذہن کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے۔
9 اپریل 2026 کو ترنمول کانگریس نے ایک ایسی ویڈیو جاری کی جس نے پورے بھارت کی سیاست میں زلزلہ برپا کر دیا۔ اس مبینہ اسٹنگ آپریشن میں ہمایوں کبیر ایک شخص سے گفتگو کرتے ہوئے مبینہ طور پر اعتراف کرتے سنائی دیتے ہیں کہ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ایک ہزار کروڑ روپے کا معاہدہ طے کیا ہے جس میں سے دو سو سے تین سو کروڑ روپے بطور پیشگی وصول ہو چکے ہیں۔ مبینہ گفتگو میں وہ اپنی حکمتِ عملی یوں بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ووٹ میری طرف آئیں گے، ہندو ووٹ خود بخود بی جے پی کے پاس جائیں گے، ممتا بنرجی ہار جائیں گی۔ اور پھر یہ الفاظ بھی مبینہ طور پر ان کے منہ سے نکلتے ہیں کہ انہوں نے وزیرِ اعظم کے دفتر سے رابطہ کیا اور بی جے پی کے سینئر رہنماؤں سویندو ادھیکاری اور ہیمنتا بسوا سرما کے ساتھ ہم آہنگی کی ہدایت ملی۔ یعنی مسلمانوں کا نجات دہندہ مبینہ طور پر اسی جماعت کے کارندے کے طور پر کام کر رہا تھا جسے روکنے کا وہ عوامی وعدہ کرتا رہا تھا۔ فرہاد حکیم نے اس پر بجا طور پر کہا کہ کیا ہم مسلمان اتنے کم عقل ہیں کہ یہ شخص ہمارے جذبات کی قیمت لگا کر تین سو کروڑ روپے پیشگی مانگے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں؟ کبیر نے بابری مسجد کا نام استعمال کیا صرف اس لیے کہ مسلمانوں کے جذبات کو ووٹ میں تبدیل کر سکے اور وہ ووٹ بھی ایک ایسی سازش کے تحت جمع کرنا چاہتا تھا جس سے آخرِکار بی جے پی فائدہ اٹھائے۔
اب آئیے اسدالدین اویسی کی طرف جن کی اے آئی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر کے ساتھ یہ انتخابی اتحاد کیا تھا۔ اویسی صاحب نے اتحاد کرتے وقت یہ سوچنا ضروری نہ سمجھا یا شاید سوچنا چاہا ہی نہیں کہ جس شخص کا سیاسی سفر کانگریس، ٹی ایم سی، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان لڑکھڑاتا رہا ہو، جسے متعدد بار اپنی جماعتوں نے نکالا ہو، وہ مسلمانوں کی آزاد قیادت کے منصب کا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر ویڈیو سامنے آتے ہی اے آئی ایم آئی ایم نے چند گھنٹوں کے اندر اندر اتحاد توڑنے کا اعلان کر دیا اور بیان جاری کیا کہ جماعت آئندہ بنگال میں اکیلے انتخاب لڑے گی۔ اس جلدبازی نے اویسی کے سیاسی کردار پر بھی سنگین سوالیہ نشان لگا دیا۔ کیا انہیں پہلے سے اس مبینہ سازش کا علم تھا؟ اگر تھا تو یہ شراکتِ جرم ہے۔ اگر نہیں تھا تو پھر یہ وہ سیاسی نادانی ہے جو بنگال کے مسلمانوں کو ایک خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کر سکتی تھی۔ دونوں صورتوں میں ملت کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ 2021 کے بنگال انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے اور تمام کے تمام بری طرح ناکام رہے تھے۔ اس ناکامی کے باوجود 135 نشستوں کے اعلان اور ایسے متنازع شخص کے ساتھ اتحاد ان سب نے مل کر بنگال کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا سیاسی جال بنا تھا جس سے نکلنا آسان نہ ہوتا۔
ہمایوں کبیر نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے ویڈیو کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ قرار دیا اور ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا۔ بی جے پی نے بھی ویڈیو کو جھوٹا کہا۔ یہ ضرور ذہن میں رہنا چاہیے کہ کسی آزاد صحافتی ادارے نے ابھی تک اس ویڈیو کی مکمل تصدیق نہیں کی، اور عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہر شخص کو بے گناہی کا قانونی حق حاصل ہے۔ مگر یہاں سوال صرف ایک ویڈیو کا نہیں، سوال اس پورے کردار کا ہے جو ہمایوں کبیر نے گزشتہ مہینوں میں ادا کیا۔ ایک شخص جو مذہب کے نام پر لوگوں کو اکھٹا کرے، بابری مسجد کا تقدس استعمال کرے، مسلم آواز کا جھنڈا اٹھائے، اور پھر مبینہ طور پر اسی فریق کے ہاتھوں میں کھیلتا پایا جائے جسے روکنے کا وعدہ کرتا آیا ہو یہ کردار خواہ عدالتی لحاظ سے کچھ بھی ثابت ہو، اخلاقی اور سیاسی پیمانے پر کبھی سرخرو نہیں ہو سکتا۔
مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ستائیس فیصد ہے یعنی تین کروڑ سے زائد انسانث جن کا ووٹ بنگال کی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب میں ان کے لیے کوئی نہ کوئی مسیحا ضرور سامنے آتا ہے، جذبات ابھارتا ہے، اور پھر انہی جذبات کو استعمال کر کے ووٹ بانٹتا ہے تاکہ آخرِکار فائدہ کسی اور کو ہو۔ ہمایوں کبیر کا پورا کردار اسی سلسلے کی ایک تازہ ترین اور دل دہلا دینے والی کڑی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ملتِ اسلامیہ کو اپنے بیرونی دشمنوں سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا ان اندرونی نجات دہندگان سے پہنچتا آیا ہے جو گردن میں تسبیح لٹکائے اور جیب میں دشمن کا چیک رکھے پھرتے ہیں۔
یہ روشنائی کے چند قطرے کسی کی ذاتی دشمنی کا اظہار نہیں، نہ کسی سیاسی جماعت کی وکالت ہے یہ اس تاریخی سچائی کا اعلان ہے کہ جو شخص آدمیت سے گرے، دین کو بازار بنائے اور وطن کی جمہوریت کو نیلام کرے، وہ چاہے کتنے ہی بڑے لقب اپنائے، تاریخ اسے ایک ہی نام سے یاد رکھتی ہے۔ اور وہ نام اس مضمون کے عنوان میں درج ہے:
ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن۔








