Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

**24 اپریل کو آسنسول میں بڑا احتجاجی جلسہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

مفتی سعید اسعد قاسمی کے کنوینر شپ میں بیداری میٹنگوں کا سلسلہ جاری*
مرکزی حکومت نے مسلمانوں کے اوقاف کوہڑپنے کی سازش کے پیش نظر وقف ترمیمی قانون تمام تر احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کراکر صدر جمہوریہ کے دستخط کے ساتھ اسے قانونی شکل دے دیا ہے۔اس کالا قانون کے خلاف ملک بھرکے مسلمانوں میں شدید اضطراب اور بے چینی کی لہر پائی جارہی ہے۔پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔شہر  آسنسول میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج درج کرانے کے مقصد سے تحفظ اوقاف کمیٹی ،ضلع پچھم بردوان کاقیام عمل میں لایا گیا۔پہلے اس کمیٹی کے کنوینر کے طور پر آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق کاانتخاب عمل میں آیا تھا مگراپنی حددرجہ مصروفیت  کی بنا پر ان کے زریعہ اس بڑی زمہ داری نبھانے سے معذرت چاہنے کے بعد جمعرات کے دن قریشی محلہ جمیت القریش میرج ہال میں علمائے کرام اور ائمہ مساجد وکمیٹی کے اہم ذمہ داروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں آسنسول امارت شرعیہ کے نائب قاضی مفتی سعید اسعد قاسمی کو اتفاق رائے سے کنوینر منتخب کیا گیا جب کہ مفتی زبیر احمد قاسمی ،مولاناتبارک حسین قاسمی،ربیع الاسلام،سید اعجاز تنویر،مشتاق احمد،نعمان اسفر خان اور دانش عزیز کوپہلی میٹنگ ہی میں جوائنٹ کنوینر بنایا گیا تھا۔کونسلر ایس ایم مصطفیٰ سمیت دیگر مسلم کونسلروں ،مسلم وکلاء میں شامل ربیع الاسلام،محمد معراج احمد،تابش سرور،محمد معین الدین اور ضلع بھر کے تمام ائمہ مساجد اور مسجدوں کے ذمہ داران کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔مفتی طہ قاسمی،حافظ الطاف حسین الیاوی،،شاہ عالم خان،وسیم اکرم خان،تبریز عالم بابو،محمد اظہر،حسرت نواز، محمد صلاح الدین اور ایاز قادری جیسے نوجوانوں کو لے کر آئندہ 24 اپریل کو شہر آسنسول میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ کی تیاری زور شور سےجاری ہے۔ آسنسول واطراف کے علاقوں میں جنگی پیمانے پر روزانہ دو تین بلکہ چار چار عوامی بیداری میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔اب تک بودھا،نیا محلہ،تالپوکھریا،مصدی محلہ،جہانگیری محلہ،بابو تالاب،اوکے روڈ، آٹو اسٹینڈ ،چھپریاموڑ،ننگھا،سری پور،نورانی مسجد،پرانااسٹیشن میں اس طرح کی عوامی بیداری میٹنگ منعقد کرکے علمائے کرام،ائمہ مساجد اور مقررین نہ صرف ملک کی موجودہ صورتحال کی بہتر جانکاری دےرہے ہیں بلکہ اوقاف کے تعلق سے حکومت وقت کی وقف ترمیمی قانون کے نقصان دہ اثرات بتاتے ہوئےائیندہ 24 اپریل کو ہونے والے احتجاجی جلسے میں پر امن طریقے سے شامل ہوکر قانون کے دائرے میں بڑے پیمانے پر احتجاج درج کرانے کی اپیل بھی کررہے ہیں۔