*آئندہ نسلوں کے لئے تحفظات کا حصول سب سے قیمتی اثاثہ*
*مردم شماری میں او بی سی کے لئے علیحدہ کالم کے خصوص میں اسمبلی میں قرارداد منظور کی جائے*
*بی جے پی حکومت تمام تحفظات ختم کرنے کی سازش کررہی ہے۔ متحدہ جدوجہد ناگزیر : کے کویتا*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والی آئندہ ذات پات کی مردم شماری میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لئے علیحدہ کالم اور ڈراپ ڈاؤن باکس کی گنجائش فراہم کی جائے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس مقصد کے لئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے قرارداد منظور کی جائے۔ اگر مرکزی حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو تلنگانہ میں ذات پات کی مردم شماری کو روکنے کا مطالبہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ او بی سی کے لئے علیحدہ کالم کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور اس مسئلہ پر سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہوکر حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے بھی ہم تیار ہیں۔باغ لنگم پلی میں منعقدہ حیدرآباد او بی سی ڈکلیریشن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ سماجی انصاف کی تحریکوں کا ذکر آتے ہی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور جیوتی راؤ پھولے کی یاد آتی ہے۔ ان کے ساتھ وہ آنجہانی پروفیسر جیہ شنکر کو بھی خراج عقیدت پیش کرتی ہیں، جنہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران ہی انہیں ہدایت دی تھی کہ ریاست کے قیام کے بعد سماجی تلنگانہ کے حصول کے لئے جدوجہد کی جائے۔ کویتا نے ملک بھر میں او بی سی کے لئے علیحدہ کالم کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مقصد کے لئے جدوجہد کرنے والے قائدین کو یقین دلایا کہ تلنگانہ رکشنا سینا ان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے گی۔کویتا نے کہا کہ اپنی آنے والی نسلوں کو دی جانے والی سب سے قیمتی وراثت تحفظات ہیں۔ اگر ایک مرتبہ تحفظات حاصل کرلئے جائیں تو ان سے نسل در نسل بچوں کو فائدہ پہنچتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کا فائدہ زیادہ سے زیادہ دو نسلوں تک محدود رہ سکتا ہے، لیکن تحفظات سے آنے والی کئی نسلوں کے لئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لئے موجودہ جدوجہد کو مستقبل کی نسلوں کے حقوق کی لڑائی سمجھ کر آگے بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ او بی سی کے حقوق کی جدوجہد میں ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو کیوں شامل کیا جائے۔ تاہم ان کے مطابق مرکز کی بی جے پی حکومت تمام تحفظات ختم کرنے کی سازش کررہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ تحفظات کا تحفظ کیا جاسکے۔کویتا نے کہا کہ ملک میں ذات پات کی مردم شماری کے دوران او بی سی کے لئے علیحدہ کالم رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایک ہی ریاست میں مختلف بی سی ذاتوں کے کئی نام ہیں اور ملک بھر میں ان ناموں کی تعداد مزید زیادہ ہے۔ اگر ایک ہی ذات کے افراد کو مختلف ناموں کے تحت الگ الگ شمار کیا جائے تو بی سی طبقات کی مجموعی آبادی کم ظاہر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مرکز 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرکے بھی یہ معلوم نہ کرسکا کہ او بی سی کی حقیقی آبادی کتنی ہے تو پھر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کا مقصد کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ او بی سی طبقات کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ان کی اصل تعداد معلوم کی جائے کیونکہ جب تک آبادی کا صحیح اندازہ نہیں ہوگا۔ اس کے تناسب سے حقوق اور حصہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ کویتا نے کہا کہ اگر ملک کا سالانہ بجٹ 50 لاکھ کروڑ روپئے ہو اور اس میں سے بی سی طبقات کی فلاح و بہبود پر سالانہ 2 ہزار کروڑ روپئے بھی خرچ نہ کئے جائیں تو یہ انتہائی ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق اس رقم سے فی کس اتنا بھی فائدہ نہیں پہنچتا کہ ایک مٹر کا دانہ خریدا جاسکے۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ اس مسئلہ پر جدوجہد نہ کرنا آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔کویتا نے کہا کہ رام منوہر لوہیا، کانشی رام، کرپوری ٹھاکر اور ملائم سنگھ یادو جیسے قائدین نے بی سی طبقات کے حقوق کے لئے جدوجہد کی۔ جگدیو پرساد کشواہا نے بھی پسماندہ طبقات کے لئے غیر معمولی جدوجہد کی، لیکن انہیں وہ مقام اور شناخت نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔انہوں نے کہا کہ جگدیو پرساد کشواہا صرف چار دن مدھیہ پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر رہے اور پولیس نے انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا۔ کویتا کے مطابق وہ اس بات کے لئے جدوجہد کررہے تھے کہ ملک کی 100 فیصد آبادی میں سے 90 فیصد افراد جو محرومیوں اور مشکلات کا شکار ہیں، انہیں انصاف ملنا چاہئے۔ وہ زمین، ملازمتوں اور تعلیم سمیت ہر شعبے میں اپنے جائز حصے کا مطالبہ کئے تھے۔ کویتا نے کہا کہ ایسے قائدین کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور ان کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مواقع اور وسائل سے صرف چند افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ بڑی آبادی ان سے محروم ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے مرحلہ وار جدوجہد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک مرتبہ اپنی آبادی کا صحیح اندازہ ہوجائے تو اسی بنیاد پر حقوق اور وسائل میں مناسب حصہ حاصل کرنے کے لئے مؤثر انداز میں آواز اٹھائی جاسکتی ہے۔کویتا نے سوال کیا کہ اگر بی سی بل پہلے ہی منظور ہوچکا ہوتا تو کیا ریونت ریڈی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری ملازمتوں میں نصف حصہ بی سی طبقات کو نہیں مل سکتا تھا؟ اسی طرح انہوں نے کہا کہ اگر بی آر ایس حکومت کی جانب سے دعویٰ کردہ دو لاکھ ملازمتوں میں بی سی کے لئے مناسب حصہ مقرر ہوتا تو کیا ایک لاکھ ملازمتیں اس طبقے کو نہیں ملتیں؟
انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف نام کے بی سی ہیں، لیکن بی سی طبقات کے لئے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کررہے ہیں۔ کویتا نے سوال کیا کہ جو لوگ ان طبقات کو شمار کرنے تک تیار نہیں، وہ انہیں اختیارات اور حقوق کس طرح فراہم کریں گے؟انہوں نے اجلاس میں شریک خواتین سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی اس سے واقف کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین اس مسئلہ کو سمجھ لیں تو جدوجہد کا نصف کام آسان ہوجائے گا۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام وسیع القلب ہیں اور خواتین کے تحفظات بل کے لئے تلنگانہ سے دہلی تک جدوجہد کرکے کامیابی حاصل کی گئی تھی۔ اسی طرح او بی سی کی مردم شماری میں علیحدہ کالم کے مطالبہ پر بھی دہلی میں جدوجہد کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جائے گی۔کویتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر بھی بی سی طبقات کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو سال کی جدوجہد کے بعد بی سی بل پیش کیا گیا اور اس وقت چیف منسٹر نے تمام جماعتوں کے قائدین کو دہلی لے جانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن کویتا کے مطابق وزیر اعظم سے تقریباً 30 مرتبہ ملاقاتوں کے باوجود اس بل کے بارے میں مؤثر انداز میں مطالبہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو حکومت نے او بی سی کی مردم شماری میں علیحدہ کالم کے مطالبہ پر اسمبلی میں قرارداد منظور کی ہے۔ اسی طرز پر تلنگانہ حکومت کو بھی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرکے او بی سی کے لئے علیحدہ کالم کی حمایت میں قرارداد منظور کرنی چاہئے۔کویتا نے واضح کیا کہ اگر مرکزی حکومت یہ قدم نہیں اٹھاتی ہے تو ریاست تلنگانہ میں ذات پات کی مردم شماری روکنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں تلنگانہ رکشنا سینا سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر حکومت کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہے۔ ان کے مطابق او بی سی کی درست گنتی، آبادی کے تناسب سے حقوق کے حصول اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے علیحدہ کالم کی منظوری ناگزیر ہے۔










