Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اسمبلی انتخابات سے قبل درگاپور میں بی جے پی کو جھٹکا، درجنوں کارکن ترنمول کانگریس میں شامل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

اسمبلی انتخابات کی آہٹ کے ساتھ ہی صنعتی شہر درگاپور میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ اسی درمیان سوموار کے روز درگاپور میں بی جے پی کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب متعدد کارکنان اور حامیوں نے پارٹی چھوڑ کر ترنمول کانگریس کا دامن تھام لیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سوموار کے روز درگاپور کے 9 نمبر وارڈ میں واقع ہرش وردھن آپن جن کلب کے میدان میں ایک خصوصی شمولیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ ترنمول کانگریس کے دعوے کے مطابق اس پروگرام میں بی جے پی سے وابستہ 12 سے 15 خاندانوں کے تقریباً 25 سے 30 سرگرم کارکنان نے باضابطہ طور پر ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ نئے شامل ہونے والے کارکنان نے درگاپور 1 نمبر بلاک کے صدر راجیو گھوش کے ہاتھوں پارٹی کا جھنڈا تھام کر ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کارکنان بنیادی طور پر ہرش وردھن 42 نمبر بوتھ کے ڈی وی سی بستی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اب آئندہ انتخابات میں ترنمول کانگریس کے حق میں کام کریں گے۔
ترنمول قیادت کا کہنا ہے کہ ریاست میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی عوامی فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر لوگ ترنمول کانگریس پر اعتماد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر راجیو گھوش نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے کاموں سے متاثر ہو کر لوگ بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تو صرف شروعات ہے اور آنے والے دنوں میں درگاپور میں مزید بڑے پیمانے پر شمولیت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کی ضلعی قیادت نے اس دعوے کو زیادہ اہمیت دینے سے انکار کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے پارٹی چھوڑنے کی بات کی جا رہی ہے وہ دراصل بی جے پی کے فعال کارکنان ہی نہیں تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ اس معاملے کو انتخابی حکمت عملی کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم انتخابات سے قبل ایک ہی بوتھ سے 25 سے 30 افراد کا پارٹی تبدیل کرنا مقامی سیاسی حالات پر کسی نہ کسی حد تک اثر ڈال سکتا ہے۔