Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اِسرائیل کی راہ پر چلتا سیکولر بھارت: جمہوری ملک میں بلڈوزر جسٹس اور اقلیتوں کا استحصال*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*اِسرائیل کی راہ پر چلتا سیکولر بھارت: جمہوری ملک میں بلڈوزر جسٹس اور اقلیتوں کا استحصال*

(مودی دورِ حکومت میں گھروں کا انہدام اور انسانی حقوق کی منظم پامالی: عالمی طاقتوں کے مفادات اور کمزور ردعمل کا المیہ)

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

بھارت کی جمہوری روایات اور سیکولر شناخت آج ایک ایسے گہرے بحران سے دوچار ہے، جہاں ‘بلڈوزر’ محض تعمیر و ترقی کا آلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ریاستی جَبْر، اقلیتی آبادیوں میں خوف و دہشت پھیلانے اور سیاسی انتقام کا ایک خوفناک ہتھیار بن چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، بھارتی ریاست نے ایک ایسی منظم پالیسی اپنائی ہے جو خطرناک حد تک اِسرائیل کی ان حکمت عملیوں کی یاد دلاتی ہے جو وہ دہائیوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں استعمال کرتا آیا ہے۔ “غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے” کے بظاہر معصوم نعرے کی آڑ میں، ہزاروں خاندانوں کو ان کی نسلوں سے آباد پناہ گاہوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، اور اس ظالمانہ مہم کا اصل ہدف واضح طور پر ملک کے مسلمان اور دیگر کمزور طبقات ہیں۔
انسانی حقوق کے معتبر ادارے “ہاؤسنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک” (HLRN) کی مارچ 2024 میں شائع کردہ تفصیلی رپورٹ “Forced Evictions in India: 2022 & 2023” اس ہولناک صورتحال کی مقداری تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق صرف 2022 اور 2023 کے دو برسوں میں، بھارتی حکام نے ملک بھر میں ایک لاکھ تریپن ہزار (1,53,000) سے زائد گھروں کو منہدم کیا، جس کے نتیجے میں سات لاکھ اڑتیس ہزار (7,38,000) سے زائد شہری جبراً بے گھر کر دیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2023 میں ہر گھنٹے اوسطاً 58 افراد اپنے سروں سے چھت کے سائے سے محروم ہوئے ۔ یہ محض خشک اعداد نہیں، بلکہ ان لاکھوں بھارتی شہریوں کی برباد شدہ زندگیوں، بکھری ہوئی امیدوں اور ایک ایسی ریاست کے ہاتھوں پہنچنے والے گہرے نفسیاتی زخموں کی حقیقی داستان ہے جس پر ان کی حفاظت کی آئینی ذمہ داری عائِد ہوتی ہے۔
اس ریاستی جَبْر کو “بلڈوزر جسٹس” کا نام دیا گیا ہے اور اس غیر اِنسانی پالیسی کے بانی اور سب سے بڑے علمبردار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں، جن کی شناخت ایک کٹَر ہندو قوم پرست رہنما کے طور پر ہے۔ 2017 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد، یوگی نے بلڈوزر کو اپنی انتظامی شناخت کا مرکزی حصہ بنایا اور انہیں “بلڈوزر بابا” کے لقب سے نوازا گیا۔ انہوں نے اس ماڈل کو اپنی ریاست میں مسلمانوں، سیاسی مخالفین اور کمزور طبقات کو کچلنے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ان کی کارروائیاں اس قدر بے رحمانہ اور غیر قانونی تھیں کہ بالآخر بھارتی سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی۔
چنانچہ، 13 نومبر 2024 کو جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی دو رُکنی بنچ نے ایک تاریخی فیصلے میں “بلڈوزر جسٹس” کو آئین کے آرٹیکل 14، 21 اور 300-A کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غیر قانونی اعلان کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ “ایگزیکٹو خود جج، جیوری اور جَلّاد نہیں بن سکتی” اور کسی بھی انہدام سے پہلے 15 دن کا نوٹس، ذاتی سماعت اور ویڈیو ریکارڈنگ لازمی قرار دی۔ یہ عدالتی سرزَنِش ایک اہم سنگِ میل ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ بھی اس سلسلے کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی یہ مہم دراصل نریندر مودی سے مسابقت اور خود کو ہندو قوم پرست سیاست کے سب سے بڑے علمبردار کے طور پر پیش کرنے کا ایک سیاسی حربہ بھی ہے۔ حکومتی ترجمانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں کبھی کسی کی “ذاتی ملکیت” منہدم نہیں کی گئی، لیکن زمینی حقائق اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اس دعوے کو جھوٹ ثابت کرتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی فروری 2024 کی تفصیلی تحقیق میں واضح کیا کہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، دہلی اور گجرات جیسی ریاستوں میں 128 ایسے واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کارروائیاں مسلمانوں کو امتیازی طور پر سزا دینے کے لیے کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جون 2025 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود جاری تَعزیری انہدامات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو نشانہ بنانے والے ان ظالمانہ اقدامات کو فوری طور پر روکے۔
لیکن اس تمام داخلی عدالتی اِحتساب اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود، عالمی طاقتوں کا ردعمل عموماً کمزور اور اپنے تزویراتی و معاشی مفادات کے تابع نظر آتا ہے۔ اگرچہ امریکی محکمہ خارجہ اور یورپی یونین جیسے اِداروں نے وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ بیانات عملی دباؤ میں تبدیل نہیں ہوسکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت دنیا کی ایک بہت بڑی مَندی ہے اور امریکہ، یورپی یونین، حتیٰ کہ کئی عرب ریاستوں کے بڑے معاشی اور دفاعی مفادات اس سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ کی “اِنڈو-پیسیفک اِسٹریٹیجی” میں بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک کلیدی اِسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر سخت مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتا ہے۔
اس عالمی بے حِسی اور معاشی خود غرضی نے مودی اور یوگی جیسے رہنماؤں کو مزید شَہ دی ہے کہ وہ بلا خوف و خطر انسانی حقوق کی پامالیاں جاری رکھیں۔ آج بھارت ایک خطرناک دو راہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی قیادت ملک کو آئین کی راہ سے ہٹا کر جَبْر اور امتیاز کی ایک ایسی تاریک کھائی کی طرف دھکیل رہی ہے جہاں قانون کی نہیں، بلکہ بلڈوزر کی حکمرانی ہے۔ مودی حکومت کی یہ پالیسیاں نہ صرف بھارت کے مسلمانوں اور کمزور طبقات کے لیے وُجُودی خطرہ ہیں، بلکہ یہ خود بھارت کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ اگر اس ریاستی جَبْر کو نہ روکا گیا تو تاریخ گواہ رہے گی کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے عالمی طاقتوں کے کمزور ردعمل کے سائے میں، اپنے ہی شہریوں پر ظُلم ڈھا کر اپنی روح کا سودا کر لیا۔