*ایران امریکہ جنگ بندی: پاکستان کا سفارتی عروج اور بھارت کے لیے تزویراتی چیلنجز*
ازقلم: *اسماء جبین فلک*
دنیا کی سیاست میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں اور اپریل ۲۰۲۶ء کا وہ لمحہ جب امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، ایسا ہی ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا ہے۔ یہ جنگ بندی محض دو ممالک کے درمیان فوجی آتش بندی نہیں بلکہ یہ ایک ایسے کثیر الجہت سفارتی اور جیو پولیٹیکل ارتعاش کا نتیجہ ہے جس میں پاکستان نے ایک انتہائی غیر متوقع مگر کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پورے منظرنامے میں بھارت کے لیے غور و فکر کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں جن کو سمجھنا نہ صرف ضروری بلکہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کو جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے فوجی ڈھانچے، جوہری پروگرام اور اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر پر وسیع حملے شروع کیے تو پوری دنیا ایک نئی عالمی جنگ کے خطرے کے سائے تلے آ گئی۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے خلیجی عرب ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ لیکن ایران کا سب سے مؤثر اور خطرناک ہتھیار فوجی طاقت نہیں بلکہ جغرافیہ تھا یعنی آبنائے ہرمز، جس سے دنیا کی تقریباً ۲۰ فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے، اس کو ایران نے مؤثر طریقے سے بند کر دیا۔ اس اقدام نے عالمی توانائی منڈیوں کو زلزلے کی طرح ہلا کر رکھ دیا، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور مغربی معیشتیں ایک غیر معمولی دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے سمجھا کہ ایران نے اپنی کمزوری کو طاقت میں بدلنے کا فن سیکھ لیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی تاریخ میں لہجے کی سختی اور دھمکیوں کے لیے مشہور ہیں، اس بار بھی ایران کو انتہائی کڑے الفاظ میں للکارتے رہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھولی تو ایک پوری تہذیب آج رات مٹ جائے گی۔ یہ زبان سفارت کاری کی نہیں بلکہ خوف و ہراس کی تھی لیکن ایران نے اس دھمکی کا جواب گھٹنے ٹیک کر نہیں بلکہ اپنی شرائط پر دیا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ہماری مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔ اس بیان میں وہ وقار کا وہ لہجہ تھا جو ایک فاتح قوم اختیار کرتی ہے نہ کہ ایک پسپا ہونے والی طاقت۔ اور ۷ اپریل ۲۰۲۶ء کو جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو ٹرمپ نے اسے دنیا کے امن کا ایک بڑا دن قرار دیا گویا ایک ایسی لڑائی میں فتح کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا جس میں ایران نے کچھ کھویا نہیں تھا۔
اس پوری داستان کا سب سے حیرت انگیز باب پاکستان کا کردار ہے۔ جیوپولیٹیکل تاریخ میں پاکستان کو شاذ و نادر ہی بین الاقوامی ثالثی کا مرکز سمجھا گیا ہے لیکن ۲۰۲۶ء کے اس بحران میں اسلام آباد نے ایک ایسا کردار ادا کیا جو اومان اور قطر جیسے روایتی ثالث ممالک نہیں کر سکے۔ وجہ سادہ مگر گہری ہے یعنی پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جن کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ بیک وقت سفارتی روابط ہیں اور خطے میں ایران کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے اس کا اس تنازعے سے براہ راست جغرافیائی اور اقتصادی مفاد وابستہ ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے ۱۵ نکاتی منصوبے کو ایران تک پہنچایا اور اسی طرح ایران کا ۱۰ نکاتی جواب امریکی پالیسی سازوں تک پہنچایا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ایکس پلیٹ فارم پر ایران سے متعلق ایک پیغام کا مسودہ ظاہر ہو جانا اور پھر اسے ہٹانا اس بات کی علامت تھی کہ پس پردہ سفارت کاری کس قدر فعال تھی۔ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی بنیاد پر طے پائی اور یہ طے ہوا کہ آبنائے ہرمز کو محدود تکنیکی ہم آہنگی کے ساتھ بتدریج کھولا جائے گا۔
پاکستان کی اس کامیابی نے ثابت کیا کہ سفارت کاری میں بڑی فوج یا بڑی معیشت سے زیادہ اعتماد، رسائی اور وقت کی پہچان اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسے ملک نے جو خود اقتصادی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے، عالمی سیاست کے سب سے پیچیدہ میدان میں ثالثی کا کردار نبھایا۔ یہ صرف شہباز شریف یا پاکستانی فوج کی کامیابی نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جغرافیہ، مذہبی تعلق اور تاریخی روابط اب بھی قومی طاقت کے ناقابل فراموش ستون ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ بین الاقوامی وقار بحالی کا ایک نادر موقع ثابت ہوا جسے اس نے بخوبی اور بہادری سے استعمال کیا۔
اب ہمیں اس سارے واقعے کو ایک اور زاویے سے دیکھنا ہوگا یعنی بھارت کے نقطہ نظر سے۔ نئی دہلی اس پورے بحران میں ایک تماشائی رہی حالانکہ اسے ایران سے تیل کی ضرورت تھی، آبنائے ہرمز سے رسد کی لائن کا انحصار تھا اور خطے کے استحکام میں اس کا اسٹریٹیجک مفاد تھا۔ بھارت کا ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ کا منصوبہ، افغانستان تک رسائی کا معاہدہ اور تیل کی تجارت یہ سب اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ لیکن بھارت نے نہ ثالثی کی، نہ کوئی سفارتی پہل کی اور نہ کسی فریق کو اپنے وزن کا احساس دلایا۔ مودی حکومت کی خاموشی جو اکثر اسٹریٹیجک خود مختاری کے نام پر پیش کی جاتی ہے، اس بار عملی غیر موجودگی اور سفارتی تھکاوٹ کی علامت بن کر رہ گئی۔
جبکہ ایران نے اس جنگ میں کئی ایسے سبق دیے جن پر بھارت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ سب سے پہلا سبق آبنائے ہرمز پر قبضے کا کارڈ ہے۔ ایران نے اپنی جغرافیائی پوزیشن کو ایک معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت کو مذاکرات کی میز پر لے آیا۔ بھارت کے پاس بھی ایسی ہی اسٹریٹیجک اثاثہ جات موجود ہیں یعنی بحر ہند پر تسلط، انڈمان و نکوبار جزائر سے سمندری گزرگاہوں پر نظر اور چین کی بحری تجارت کے راستوں سے قربت۔ لیکن کیا بھارت نے انہیں کبھی ایران جیسی مہارت سے استعمال کیا؟ یہ سوال جتنا سادہ ہے اتنا ہی تکلیف دہ بھی ہے۔
دوسرا سبق غیر متماثل جنگ کا فن ہے۔ ایران نے ایک کھلی فوجی جنگ کو لمبا کھینچنے کی بجائے ڈرون، میزائل، پراکسی قوتوں اور سمندری ناکہ بندی کو ہم آہنگ کر کے ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی جس نے امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا۔ بھارت جو مشرق میں چین اور مغرب میں پاکستان جیسے دونوں محاذوں پر ممکنہ خطرات سے نبرد آزما ہو سکتا ہے اسے یہ سیکھنا ہوگا کہ روایتی فوجی طاقت اب کافی نہیں بلکہ مربوط، غیر متماثل اور تکنیکی حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔ ڈرونوں کو مار گرانے کے لیے بھاری رقم کے میزائل خرچ کرنا نہ صرف مہنگا ہے بلکہ حکمت عملی کا خسارہ بھی ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم سبق سفارت کاری کو ہمیشہ فعال رکھنا ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران بھی اپنی سفارتی ترسیل پاکستان کے ذریعے جاری رکھی جبکہ بھارت جو خود کو عالمی رہنما کہلوانے کا خواہاں ہے اس بحران میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر رہا۔ مودی حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو محض تیل تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک وسیع اسٹریٹیجک شراکت داری میں تبدیل کیا جائے جو بھارت کو مغربی ایشیا میں ایک قابل اعتماد کھلاڑی کا مقام دے۔ اگر پاکستان اپنی تمام داخلی پریشانیوں کے باوجود یہ کر سکتا ہے تو بھارت کے لیے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ بندی مستقل امن نہیں ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ دو ہفتوں کی آتش بندی کوئی مستقل قرارداد نہیں اور جب تک اس کے ۱۰ نکاتی مطالبات جن میں امریکی فوجوں کا انخلاء، پابندیوں کا خاتمہ اور مکمل معاوضہ شامل ہیں پورے نہیں ہوتے، خطے میں استحکام ایک خواب رہے گا۔ اس عدم استحکام میں بھارت کا اقتصادی نقصان جاری رہ سکتا ہے چاہے گولیاں چل رہی ہوں یا نہ چل رہی ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران نے دنیا کو سکھایا کہ جنگ صرف ہتھیار سے نہیں جیتی جاتی بلکہ حکمت، جغرافیہ، معاشی دباؤ اور سفارتی چالاکی سے بھی جیتی جاتی ہے۔ پاکستان نے سکھایا کہ ثالثی کا کردار کمزور ملک بھی ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کے پاس اعتماد اور رسائی ہو۔ اور بھارت کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ وہ اس تمام منظرنامے میں کہاں ہے؟ کیا وہ محض ایک تماشائی رہے گا یا اپنی حیثیت کے مطابق عالمی سیاست میں ایک فعال اور ذمہ دار قوت کا کردار نبھائے گا؟ مودی حکومت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے یعنی یہ وقت خاموشی کا نہیں بلکہ بصیرت اور جرأت کے ساتھ قدم اٹھانے کا ہے ورنہ تاریخ کے اس نازک دور میں بھارت کی غیر موجودگی ہی اس کا سب سے بڑا نقصان بن جائے گی۔










