الیکشن کمیشن آف انڈیا نے سوموار کے روز مغربی بنگال سمیت ملک کی 12 ریاستوں میں ایس آئی آر (SIR) نظام نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد بدھ کے روز ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کے دفتر میں کمیشن کی جانب سے ایک سربراہی اجلاس (سرو دلیہ میٹنگ) طلب کی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے ایس آئی آر کے نفاذ کو لے کر کئی اہم سوالات اٹھائے۔
اس میٹنگ میں ترنمول کانگریس، مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے نمائندے شریک ہوئے۔ سیاسی رہنماؤں نے ڈی ایم اور الیکشن افسر ایس۔ پوننابالم سے پوچھا کہ آخر کون بھارتی ہے اور کون بنگلہ دیشی، یہ طے کرنے کا اختیار انہیں کس نے دیا؟ ترنمول اور دیگر پارٹی کے نمائندوں نے اعتراض کیا کہ “آپ کو کیسے پتہ چلا کہ کون بنگلہ دیشی ہے؟ اور آپ کس حق سے یہ بات کہہ رہے ہیں؟”
سی پی ایم کے رہنماؤں نے صاف الفاظ میں کہا کہ کسی شہری کی شہریت طے کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں بلکہ یہ حکومتِ ہند اور وزارت داخلہ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کمیشن کس قانونی سکشن (Section) کے تحت یہ اطلاع فراہم کر رہا ہے کہ کون شہری ہے اور کون نہیں؟
ترنمول کانگریس کے نمائندوں نے بھی میٹنگ کے دوران سوال کیا کہ کمیشن کو یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ ایس آئی آر کے عمل میں بی ایل او (BLO) کا کردار کیا ہوگا؟
ڈی ایم نے اس موقع پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری رہنما خطوط (Guidelines) کی تفصیلی وضاحت کی اور بتایا کہ ایس آئی آر کی مکمل کارروائی میں بی ایل اوز کو کلیدی کردار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، سیاسی جماعتوں نے سوال کیا کہ اس عمل میں آدھار کارڈ کا کردار کیا ہوگا اور کیوں آدھار کو شناختی ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔
ڈی ایم نے تمام جماعتوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کمیشن کی ہدایت کے مطابق تمام شکوک و شبہات کا ازالہ کریں گے اور ایس آئی آر کے عمل کو شفاف اور غیرجانبدار انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔










