Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بالاسور کی فضا سوگوار، آنکھیں نم،سی آر پی ایف جوان ذاکر علی خان کو گارڈ آف آنر کے ساتھ کیا گیا سپردِ خاک*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بالاسور 11 جنوری: بالاسور آج غم اور احترام کے ملے جلے جذبات میں ڈوبا ہوا تھا، جب سی آر پی ایف کے سب انسپکٹر ذاکر علی خان کو سرکاری اعزاز گارڈ آف آنر کے ساتھ ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ قومی پرچم میں لپٹا ہوا جسدِ خاکی جب آخری دیدار کے لیے لایا گیا تو ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل رنجیدہ نظر آیا۔ فضا میں “ذاکر علی خان امر رہے” کے نعروں اور سسکیوں سے گونج اٹھی۔اطلاعات کے مطابق بالاسور کے بالیا کے رہنے والے ذاکر علی خان گزشتہ 26 سالوں سے سی آر پی ایف میں سب انسپکٹر طور پر متعین تھے۔ انہوں نے دیش کی حفاظت کے لئے شری نگر ،پنچاب،ایودھیا،کولکاتا،چھتیش گڑھ اور آخر ویشاکھا پٹنم اور خطرناک ماوادی علاقوں میں اپنا فرائض انجام دیا ہے۔ اس وقت وہ گھر چھٹی میں آئے تھے کہ اچانک انکو دل کا دورہ پڑا ہسپتال اٹھایا گیا لیکن ان کی موت ہوگئی، ناگہانی موت کی خبر جیسے ہی علاقے میں پھیلی، سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جبکہ محلہ اور ضلع بھر کے لوگوں نے ان کے گھر پہنچ کر تعزیت کا سلسلہ شروع کردیا۔آخری رسومات کے موقع پر سی آر پی ایف کے جوانوں نے مکمل وقار کے ساتھ گارڈ آف آنر پیش کیا۔ تین بار ہوائی فائرنگ کے ذریعے مرحوم کو سلامی دی گئی۔ اس موقع پر ضلع انتظامیہ کے افسران، پولیس اہلکار، سماجی تنظیموں کے نمائندے، مقامی عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں شہری موجود رہے۔جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ہر شخص کے چہرے پر غم کی پرچھائیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔

مرحوم کے والد جاوید علی خان کو ترنگے پے لپٹے اپنے جگر گوشے کو آخری سلام پیش کرتے دیکھ کر موجود ہر شخص کی آنکھیں بھر آئیں۔ یہ منظر ہر دل کو جھنجھوڑ دینے والا تھا۔مقامی لوگوں نے کہا کہ ذاکر علی خان نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور نرم گفتار نوجوان تھے۔ ان کی اچانک جدائی نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔مرحوم اپنے پیچھے ماں باپ بھائی بہن اور بیوی اور ایک بیٹے کو چھوڑ گئے۔تدفین کے بعد دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا، جہاں مرحوم کی مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ضلع بالاسور آج اپنے ایک نوجوان کو کھو کر سوگوار ہے، مگر جس احترام اور اعزاز کے ساتھ ذاکر علی خان کو رخصت کیا گیا، وہ لمحہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں نقش رہے گا۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔