Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی اور نسلی فرق: ایک سماجی چیلنج اور موقع*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی اور نسلی فرق: ایک سماجی چیلنج اور موقع*
دنیا بھر میں انسانوں کی اوسط عمر بڑھ رہی ہے اور پیدائش کی شرح مسلسل گر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2050 تک دنیا کی ہر چھٹی فرد کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ ہوگی، یعنی تقریباً 1.6 ارب افراد۔ یہ ایک بڑی سماجی تبدیلی ہے، جو نہ صرف معیشت بلکہ خاندانی نظام، ٹیکنالوجی اور ثقافتی اقدار پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔
اگرچہ اس رجحان کو طبی ترقی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس سے معاشرے میں بزرگ اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، جسے “نسلی فرق” کہا جاتا ہے۔ یہ صرف عمر کا فرق نہیں بلکہ سوچ، طرزِ زندگی، ٹیکنالوجی کے استعمال، اور اقدار میں نمایاں فرق ہے۔
عمر رسیدہ آبادی کی حقیقت
دنیا کے کئی ممالک تیزی سے بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں:
• جاپان میں 65 سال یا زائد عمر کے افراد کی تعداد کل آبادی کا 30 فیصد ہے (2024)۔
• اٹلی اور جرمنی بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جہاں شرح پیدائش 1.3 سے بھی کم ہے—جبکہ آبادی کے استحکام کے لیے 2.1 کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس رجحان کے اثرات:
1. اقتصادی دباؤ:
پنشن فنڈز پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ OECD کے مطابق، ترقی یافتہ ممالک میں پنشن کا خرچ 2030 تک GDP کا 10٪ سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
2. مزدوروں کی قلت:
یورپ میں 2023 میں تقریباً 30 لاکھ نوکریاں خالی تھیں جنہیں پُر کرنے والا نوجوان طبقہ دستیاب نہیں تھا۔
3. صارفین کی ترجیحات میں تبدیلی:
بزرگ صارفین صحت، ادویات، معاون زندگی، اور محفوظ ٹرانسپورٹ جیسی خدمات کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2022 میں امریکہ میں عمر رسیدہ افراد پر ہیلتھ کیئر اخراجات $1.2 ٹریلین سے تجاوز کر گئے۔
نسلی فرق: کہاں کہاں ظاہر ہوتا ہے؟

1. ٹیکنالوجی کا استعمال

• بزرگ افراد عام طور پر سمارٹ فونز، ایپس یا آن لائن سروسز میں مہارت نہیں رکھتے۔
مثال: 65+ عمر کے صرف 46٪ افراد نے 2022 میں امریکا میں آن لائن بینکنگ استعمال کی، جب کہ 18-29 سال کے افراد میں یہ شرح 94٪ تھی۔
• نوجوان تیز رفتار رابطہ چاہتے ہیں۔ وہ واٹس ایپ، انسٹاگرام، اور TikTok جیسے پلیٹ فارمز کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ بزرگ افراد ای میل یا فون کال پر انحصار کرتے ہیں۔

2. کام کی جگہ پر اقدار کا فرق

• بزرگ ملازمین وفاداری، سینئرٹی اور مستقل ملازمت کو اہم سمجھتے ہیں۔
• نوجوان نسل لچکدار کام، “ریمورٹ ورک”، اور مقصدیت پر زور دیتی ہے۔
مثال: Deloitte کے 2023 سروے کے مطابق، Gen Z کے 60٪ افراد صرف اسی کمپنی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جو “سماجی اثر” پر کام کرے۔

3. سیاسی اور سماجی نظریات

• نوجوان نسل موسمیاتی تبدیلی، صنفی مساوات اور امیگریشن کے حق میں زیادہ سرگرم ہے۔
مثال: فرائڈیز فار فیوچر جیسی تحریکوں کی قیادت زیادہ تر 20 سال سے کم عمر افراد کر رہے ہیں، جب کہ بہت سے بزرگ سیاستدان ماحول سے زیادہ معیشت پر توجہ دیتے ہیں۔
بوڑھی آبادی اور نوجوانوں کی دنیا: چیلنجز

1. خاندانی اور سماجی دباؤ

• خاندان چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ 1950 میں ہر خاندان میں اوسطاً 5 بچے ہوتے تھے، آج یہ تعداد 2 سے بھی کم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے دستیاب افراد کم ہو گئے ہیں۔

2. عمر پر مبنی تعصب

• آج بھی بہت سی کمپنیاں بزرگ ملازمین کو ترقی دینے یا نئی ٹیکنالوجی سکھانے کے بجائے نظر انداز کرتی ہیں۔
مثال: 2021 میں کیے گئے ایک سروے میں 60٪ بزرگ افراد نے کہا کہ انہیں عمر کی بنیاد پر ملازمت سے محروم کیا گیا۔

3. پالیسی کی ناکامی

• تعلیم، صحت، اور پنشن جیسے شعبوں میں نسلوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پر تناؤ ہے۔
اگر نوجوانوں کی تعلیم کا بجٹ کم ہو اور سارا زور بزرگوں کی پنشن پر ہو، تو بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
حل اور مواقع

1. نسلی ہم آہنگی کے پروگرامز

• “گرینڈ مینٹور” جیسے پروگرامز جہاں ریٹائرڈ افراد کو نوجوانوں کی رہنمائی کا موقع ملتا ہے۔
• جرمنی میں “Senior Experten Service” کے تحت 30,000 سے زائد بزرگ پیشہ ور نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں۔

2. بزرگوں کی ڈیجیٹل تربیت

• کوریا میں حکومت نے 2022 میں 100,000 بزرگوں کو اسمارٹ فون استعمال کرنے کی مفت تربیت دی، جس سے ان کی سماجی تنہائی میں 37٪ کمی دیکھی گئی۔

3. شامل پالیسی سازی

• ایسی پالیسیز بنانا جو ہر عمر کی ضروریات پوری کریں:
o لچکدار ریٹائرمنٹ
o سستی تعلیم
o نوجوانوں کے لیے روزگار
o عمر رسیدہ افراد کے لیے صحت کی سہولیات
نتیجہ
عمر رسیدہ آبادی اور نسلوں کے درمیان فرق ہمارے دور کے سب سے بڑے سماجی چیلنجز میں سے ہیں۔ لیکن اگر ہم انہیں صرف مسئلہ سمجھنے کے بجائے موقع کے طور پر لیں، تو ہم ایسی پالیسیاں، نظام، اور تعلقات بنا سکتے ہیں جو نسلوں کے درمیان پُل کا کام کریں۔
اگر بزرگوں کا تجربہ اور نوجوانوں کا جذبہ ایک ساتھ آ جائے تو معاشرہ مضبوط ہو سکتا ہے۔ ہمیں بس یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر نسل کو سنا جائے، سکھایا جائے، اور آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔


Faculty of Mathematics,
Department of General Education SUC, Sharjah, UAE
Email: reyaz56@gmail.com
WhatsApp No: 00971542454219