*بی آر ایس آئین اور اخلاقیات سے عاری۔ علیحدگی پر مطمئن اور خوش ہوں*
*میری لڑائی جائیداد کے لئے نہیں بلکہ عزت نفس اور خودداری کی جدوجہد ہے*
*کانگریس کے جھوٹے پروپگنڈہ کی مذمت۔ بی جے پی نے تلنگانہ کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی کی*
*میں ایک فرد کی حیثیت سے جا رہی ہوں۔ عوامی طاقت کے ساتھ واپس آؤں گی*
*آئندہ اسمبلی انتخابات میں جاگروتی ایک سیاسی جماعت کے طور پر ابھرے گی*
*قانون ساز کونسل میں کے کویتا کی جذباتی تقریر۔ آنکھ سے آنسو رواں*
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اپنے خطاب کے دوران بی آر ایس کو آئین کی روح اور اخلاقیات سے عاری پارٹی قرار دیا اور کہا کہ اس پارٹی کا آئین محض ایک مذاق ہے جو صرف آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غیر اخلاقی پارٹی سے باہر آنا ان کے لئے اطمینان کا باعث ہے۔ کویتا نے واضح کیا کہ وہ تلنگانہ کے لئے اپنے خاندان کو چھوڑ کر جدوجہد کیں مگر پارٹی کے اندر سازش کے تحت انہیں باہر نکال دیا گیا۔انہیں بغیر کوئی نوٹس اور وضاحت طلب کئے معطل کردیا گیا۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کانگریس ان کی جدوجہد کو جائیدادکے لئے لڑائی قرار دے کر جھوٹا پروپگنڈہ کر رہی ہے، جبکہ وہ لکشمی نرسمہا سوامی اور اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہتی ہیں کہ ان کی جدوجہد صرف عزت نفس اورخودداری کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج اس ایوان سے ایک فرد کی حیثیت سے جا رہی ہیں، مگر مستقبل میں ایک طاقت بن کر عوام کے سامنے واپس آئیں گی اور تلنگانہ میں ایک نئی سیاسی راہ قائم کریں گی۔ ایک خاتون کی حیثیت سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے انہوں نے عوام سے دعاؤں اور آشیرواد کی اپیل کی۔ کویتا ایک موقع پر خطاب کے دوران شدید جذباتی ہو گئیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 3 ستمبر کو وہ اپنے ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ دی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ مکمل درست فارمیٹ میں استعفیٰ پیش کیں مگر ان سے دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری ہوش و حواس کے ساتھ استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور ایوان میں اس کی وجوہات بیان کرنے کا موقع دینے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چار کروڑ آبادی والی ریاست میں صرف چالیس افراد کو ایوان بالا کی رکنیت کا موقع ملتا ہے اور یہ اعزاز دینے پر وہ بی آر ایس پارٹی اور نظام آباد کے ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی ارکان کی شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ جس پارٹی کے ذریعہ انہیں عہدہ ملا، اسی پارٹی میں انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے حالات میں اسی پارٹی کے عطا کردہ عہدہ پر برقرار رہنا اخلاقی طور پر مناسب نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے عوامی زندگی سے وابستہ ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2006 میں کے سی آر اور پروفیسر جیہ شنکر سے متاثر ہو کر وہ تحریک میں شامل ہوئیں، حالانکہ اس وقت ٹی آر ایس ایک سیاسی پارٹی بن چکی تھی اور کے سی آر مرکزی وزیر تھے، اس کے باوجود انہوں نے جاگروتی کے ذریعے اپنی الگ جدوجہد شروع کی۔انہوں نے کہا کہ وہ خواتین اور نوجوانوں کو تحریک میں شامل کرنے کے لئے کئی پروگرام منعقد کی تھیں۔ بتکماں تہوار کو شاندار انداز میں منانے کے اقدامات کئے اور اسے خودداری کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ تین ہزار سالہ تلنگانہ تاریخ کے شواہد کے ساتھ کتابیں شائع کی گئیں، میڈیا اور فلموں میں تلنگانہ کی زبان اورلہجے کی توہین کے خلاف آواز اٹھائی گئی، نصابی کتب میں تلنگانہ کی عظیم شخصیات کی تاریخ شامل نہ ہونے پر سوال اٹھائے گئے اور سری کرشنا کمیٹی کو تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے آگاہ کیا گیا، جس کی تصدیق بعد میں کمیٹی کی حتمی رپورٹ میں بھی ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ آٹھ برسوں تک لڑکیوں اور قبائلی حقوق کے لئے جدوجہد کی گئی، مقامی لوگوں کو ملازمتیں دینے کے لئے تحریک چلائی گئی۔ 2004 میں وہ ذاتی کام سے امریکہ سے حیدرآباد آئیں، اس وقت بہت سے لوگ کے سی آر کی تحریک سے متاثر ہو کر نوکریاں چھوڑ کر تحریک میں شامل ہو چکے تھے، ان ہی کے جذبے سے متاثر ہو کر وہ بھی شامل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 اور 2014 کے دوران تحریک میں کئی اہم واقعات پیش آئے، تلنگانہ کے لئے بولنے کی خاطر وہ خاندان سمیت دہلی گئیں، مگر دو ماہ تک کسی کانگریس لیڈر نے ان سے بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ آج تحریک سے غیر متعلق نئے لوگ ان کے کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں، اسی لئے وہ اپنا کردار واضح کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گلیوں سے لے کر دہلی تک تلنگانہ کے لئے جدوجہد کی، دہلی میں دو ماہ تک نظر انداز کئے جانے کے بعد فرنانڈیز کے ذریعہ کے سی آر کوملاقات کا موقع ملا۔جس کے بعد سونیا گاندھی نے ایک ہی دن میں کئی مرتبہ رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2013 میں آندھرا لابی کے سبب ریاست کی تشکیل رک جانے کا خدشہ تھا، مگر سب نے مل کر اسے ممکن بنایا اور بعد ازاں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تلنگانہ بل منظور ہوا، جس میں ان کا بھی کردار تھا۔انہوں نے کہا کہ بعد میں کانگریس میں بی آر ایس کے انضمام پر بات چیت ہوئی مگر انضمام نہیں ہوا اور بی آر ایس آزاد حیثیت سے اقتدار میں آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد سیاست میں آنا نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی این جی او چلانا تھا، مگر بی آر ایس نے ہی انہیں نظام آباد سے پارلیمانی ٹکٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاتون کے لئے بچوں کو چھوڑ کر سیاست میں آنا آسان فیصلہ نہیں ہوتا، اسی لئے انہوں نے چار ماہ تک اپنے شوہر سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی ٹکٹ مانگ کر الیکشن نہیں جیتا۔ 2014 میں بی آر ایس کی جیت پر انہیں تلنگانہ کی خودمختار سیاسی شناخت پر خوشی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے تقسیم کے مسائل، ہائی کورٹ کے قیام اور کالیشورم پراجیکٹ کی منظوری کے لئے بھی جدوجہد کی۔ انہیں جو بھی ذمہ داری دی گئی، انہوں نے پوری طاقت سے نبھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پداپلی–نظام آباد ریلوے لائن جو تیس برس سے زیر التوا تھی، انہوں نے ایم پی بننے کے بعد مکمل کروائی۔ آٹھ برسوں تک جاگروتی کے تحت بتکماں تہوار منائے گئے، مگر 2014 میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی ہی بتکماں سے ان پر پابندیاں لگنا شروع ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر شروع سے ہی ان پر قدغنیں لگائی گئیں اور اظہار خیال محدود کیا گیا۔ ان کے پاس کبھی بڑے لوگ یا کنٹراکٹر نہیں آئے بلکہ آنگن واڑی، آشا ورکرس، سنگارینی کارکنان، اساتذہ اور آؤٹ سورسنگ ملازمین آتے تھے ۔ انہوں نے اپنی حد تک ان سب کے لئے کام کیا۔ پارٹی کے چینل اور اخبار نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا، اس کے باوجود وہ ہمت کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کو نقصاندہ کہنے کے باوجود ریاست میں کنٹراکٹ نظام کو ختم کرنے کے بجائے بڑھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سوال اٹھانے والی اسی پارٹی سے جب انہوں نے سوال کئے، تو ان سے دشمنی کی گئی اور سازش کے تحت پارٹی سے باہر نکال دیاگیا۔ ریاستی سطح کے فیصلوں میں انہیں کبھی شامل نہیں کیا گیا۔ دھرنا چوک ختم کرنے کے فیصلے پر انہوں نے سوال اٹھایا، کسانوں کی گرفتاریوں اور بدسلوکی پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں کو کے سی آر کی توجہ میں لایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امرجیوتی، سکریٹریٹ، امبیڈکر مجسمہ اور کلکٹریٹ کی تعمیرات میں بدعنوانی ہوئی، سدی پیٹ اور سرسلہ میں کلکٹریٹ ایک ہی بارش میں ڈوب گئے۔انہوں نے کہا کہ جہد کاروں کے ساتھ بھی شدید ناانصافی ہوئی، ایک لاکھ جہدکاروں کو کم از کم پنشن بھی نہیں دی گئی، 1969 کے جہدکاروں کو تسلیم تک نہیں کیا گیا اور “پانی، فنڈ، تقررات” کے نعرے سے انحراف ہوا۔ ریت کے کاروبار کے باعث نیریلا جیسے واقعات پیش آئے، مگر اس وقت بھی اور موجودہ کانگریس حکومت میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بودھن شوگر فیاکٹری کے لئے سو مرتبہ درخواست کے باوجود کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے نام کو بی آر ایس سے بدلنے کے فیصلے سے وہ متفق نہیں تھیں، ایک لاکھ نواسی ہزار کروڑ روپئے خرچ کر کے صرف چودہ لاکھ ایکڑ کو پانی دیا گیا، جبکہ اسی رقم سے پچیس لاکھ غریبوں کو مکانات دیئے جا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں شفاف اور بدعنوانی سے پاک نظام کی امید پوری نہیں ہوئی، بی جے پی نے بھی تلنگانہ کو بار بار دھوکہ دیا، کسی منصوبے کو قومی درجہ نہیں دیا اور آئی ٹی آئی آر روک کر نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی۔انہوں نے کہا کہ جب وہ جیل میں تھی تب اس وقت پارٹی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔انہوں نے تین برس تک ای ڈی اور سی بی آئی سے اکیلے مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس میں آئینی روح نہیں، پارٹی کا آئین صرف آٹھ صفحات پر مشتمل ہے، راتوں رات ڈسپلنری ایکشن کمیٹی بنا کر انہیں بغیر نوٹس معطل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی چیلنج کر سکتی ہیں، مگر اخلاقیات سے عاری پارٹی کو چیلنج نہیں کریں گی اور اس سے دوری پر خوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں خواتین کی نمائندگی نہایت کم ہے، پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل میں خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا راستہ الگ ہو سکتا ہے مگر مقصد ایک ہی ہے کہ تلنگانہ کے عوام خوشحال ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ اور اخلاقیات کے ساتھ کھڑی ہیں، آئندہ اسمبلی انتخابات میں عوام کے حق میں ایک طاقت کے طور پر میدان میں اتریں گی، بائیں بازو کے حامیوں، طلبہ، بے روزگاروں اور خواتین کے لئے کام کرنے والی ایک نئی سیاسی قوت سامنے آئے گی، اور ایک خاتون کی حیثیت سے وہ آگے بڑھ رہی ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے گن پارک پہنچ کر تلنگانہ کے لئے جان نچھاور کرنے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے اعلان کیا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات تک تلنگانہ جاگروتی ایک باقاعدہ سیاسی پارٹی کے طور پر ابھرے گی اور تلنگانہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک مضبوط سیاسی طاقت بن کر سامنے آئے گی۔










