Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بیر پتر ورثہ گاؤں منصوبے کے تحت ’کوی تیرتھ شانتی کانن‘ کی ترقی کا مسئلہ اسمبلی میں اٹھایا بالاسور صدر رکن اسمبلی مانس کمار دتّا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بالاسور 28 نومبر:اڈیشا میں نئی حکومت کی تشکیل کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں وزیراعلیٰ موہن چرَن ماجھی نے ادبی دنیا کے عظیم کوی اور “کوی سمراٹ” بیاس کوی فقیر موہن سیناپتی کی یادگار کے فروغ کا اعلان کیا تھا۔ اسی سلسلے میں حکومت کی جانب سے کی جا رہی پیش رفت کے بارے میں اڈیشا اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں بالاسور صدَر کے رکن اسمبلی مانس کمار دتّا نے سوال اٹھایا۔رکن اسمبلی دتّا نے کہا کہ بیاس کوی فقیرموہن سیناپتی کے آبائی مقام شانتی کانن کی ترقی کے ذریعے ان کی یادوں کو امر رکھنے کے لیے حکومت نے ایک ماہر کمیٹی کے ذریعے مکمل منصوبہ (DPR) تیار کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ کیا اس منصوبے کے لیے الگ بجٹ مختص کیا گیا ہے یا نہیں۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اڈیشا کے زبان، ادب اور ثقافت کے وزیر سوریہ بنشی سورج نے کہا کہ ریاست کے عظیم سپوتوں اور آزادی کے مجاہدین کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے پیدائشی مقامات کو ’’بیرپتر ورثہ گاؤں‘‘ کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں بالاسور شہر کے ملیکاشپور میں واقع “کوی تیرتھ شانتی کانن”، جو فقیرموہن سیناپتی کا جائے پیدائش ہے، کو بیرپتر ورثہ گاؤں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ منصوبے کے تحت شانتی کانن یادگار کی ترقی کے لیے اڈیشا حکومت کے زبان، ادب اور ثقافت محکمہ کی جانب سے اقدامات جاری ہیں۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔

Latest News