*تاریخ کی سب سے بڑی ناانصافی – بابری مسجد کا درد اور سقوط کی داستان*
*(انصاف کی دہلیز پر عقیدے کی شکست)*
از قلم : اسماء جبین فلک
بابری مسجد ہندوستانی ریاست اتر پردیش، ضلع فیض آباد کے ایودھیا میں قائم تھی اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی۔ اس مسجد کو مغل بادشاہ بابَر کے حکم سے اودھ کے ایک گورنر میر باقی نے 1528ء میں تعمیر کروایا تھا۔ مسجد کی چوڑائی اتنی تھی کہ چھت کے حصے میں تین صفیں اور مسجد کے صحن میں چار صفیں لگتی تھیں۔
1528ء سے لے کر 1855ء تک مسجد میں پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوتی رہی اور اس عرصے میں مسجد کے متعلق کسی قسم کا کوئی جھگڑا وجود میں نہیں آیا۔ پھر 1855ء کو انگریزوں نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے ہندو اور مسلمان کو آپس میں لڑانے کے لیے بابری مسجد کے قصّے کو اُٹھایا۔ انہوں نے ایک نجومی کو تیار کیا اور اس کے ہاتھ میں ایک نقشہ تھما دیا۔ اس نجومی نے نقشے کی مدد سے یہ بتایا کہ مشرق کی جانب مسجد کے صحن سے لگ کر جو دیوار ہے، وہاں پر رام چندر جی کی پیدائش ہوئی اور بائیں جانب مسجد کے صحن سے لگ کر جو دیوار ہے، وہ سیتا کی رسوئی تھی۔ اس بات کو لوگوں نے خاطر خواہ نہیں لیا اور خود اس وقت کے ہندوؤں اور ان کے پنڈتوں نے نجومی کی اس بات سے صاف انکار کر دیا۔
لیکن جھگڑے کا بیج انگریزوں نے بو دیا تھا۔ ساتھ کچھ اور لوگوں کو ملا لیا اور ان من گھڑت باتوں کو اور زیادہ ہوا دیتے رہے۔ انگریز بھی ہندوؤں کو بھڑکاتے اور آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کرتے رہے۔ بلاآخر یہ مسئلہ سنجیدگی اختیار کر گیا اور مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئیں، جن میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ مسافر مرزا جان اپنی کتاب جو کتاب 1856ء کو چھپی تھی اس میں لکھتے ہیں کہ 1855ء کو انگریزوں کے اشارے پر ہندوؤں نے ایودھیا کی مسجدوں کو گرانا شروع کیا، یہ کہہ کر کہ ان مسجدوں کو اورنگزیب عالمگیر نے مندروں کو توڑ کر بنایا تھا۔
اس سے وہاں کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور اپنی مسجدوں کو آزاد کرنے کی خاطر اپنی جانوں کی بازی لگانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بابری مسجد میں جمع ہوئے۔ وہاں سکندر چاند ہندوؤں سمیت ہزار کی تعداد کے ساتھ بابری مسجد میں موجود مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً 300 تھی مگر وہ دلیری کے ساتھ لڑتے ہوئے ہندوؤں کو پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے۔ انگریزوں اور ہندوؤں پر مشتمل اس فوج کو جب یقین ہوا کہ وہ مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں نہیں ہرا سکتے، تو مذاکرات کی چال چلی اور حتمی فیصلہ آنے تک جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ مسلمان واپس مسجد میں چلے گئے اور انتظار کرنے لگے۔
لیکن بے خبری میں ہندوؤں نے اچانک بابری مسجد پر حملہ کر دیا اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ اس دن ان سب نے مل کر مسلمانوں کا بڑی بے دردی کے ساتھ قتل عام کیا، انہوں نے مسجد کے ساتھ بے حرمتی کی، قرآن کریم کے نسخوں کو پیروں سے روندا۔ اس کے بعد مسجد کے صحن میں ہون کیا، شَنکھ بجایا اور وہیں بیٹھ کر موہن بھوگ کھایا۔ یہ سب تو انگریزوں کے اشارے پر ہو ہی رہا تھا۔ اب صرف یہ کرنا تھا کہ یا تو دوسری مسجدوں کی طرح بابری مسجد کا بھی نام و نشان ختم کرتے یا اسے مندر میں تبدیل کر دیتے، لیکن ایودھیا کے مسلمان اپنی پسپائی اور قتلِ عام کے باوجود اپنی ایمانی حرارت اور دلی حمیت کو اپنے سینے میں لگائے ہوئے تھے۔ اس شکست کے بعد انہوں نے مسجد کو ہندوؤں سے خالی کرایا اور پھر اس کی حفاظت کے لیے مذہبی، قانونی، دستاویزی اور عدالتی سطح پر ہندوؤں سے برابر لڑتے رہے۔
تو آئے روز جھگڑے ہوتے رہے مگر ان کو جنم استھان کو مسمار کر کے بابری مسجد بنانے کا کوئی مُسَلمَہ اور مستند ثبوت نہ مل سکا۔ جب انگریز پوری طرح ہندوستان پر قابض ہوئے تو ان کی دورِ حکومت میں ہندو بابری مسجد میں گھس آتے، وہاں مورتی بھی رکھ لیتے، پوجا پاٹھ بھی کر لیتے، مگر ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جاتی تو انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔
30 نومبر 1858ء کو انگریز کی عدالت میں دائر کی گئی جس میں یہ بتایا گیا کہ ایک شخص نے مسجد کے اندر ممبروں میں محراب کے پاس مٹی کا ایک چبوترا بنا لیا ہے، اس کے برابر میں ایک گڑھا کھود کر پختہ منڈیر تعمیر کر لی ہے اور اس پر آگ روشن کر کے پوجا اور ہون کیا جاتا ہے۔ مسجد میں کوئلے سے رام رام لکھ دیا گیا ہے۔ پھر اس درخواست میں یہ بات بھی یاد دلائی گئی کہ مسجد کے بغل میں جنم استھان سینکڑوں برس سے خالی پڑا تھا اور وہیں آکر بیراگی پوجا کیا کرتے تھے لیکن بیراگیوں نے تھانے دار کی سازش سے وہاں پر ایک چبوترا بنا لیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس سلسلے میں تھانے دار کو معطل کرکے بیراگیوں پر جرمانہ کیا اور محراب میں رکھی چیزوں کو باہر نکالا گیا، مگر باہر جو چبوترا بنایا گیا تھا اسے توڑا نہیں گیا بلکہ ایسے ہی رہنے دیا گیا، جس کے بعد اس کو بیراگیوں نے اور بڑھا لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنم استھان مسجد کے باہر تھا، اندر نہیں تھا۔ پھر 1885ء کے مقدمے کے فیصلے کے بعد بھی بابری مسجد پہلے کی طرح مسلمانوں کے قبضے میں رہی اور وہاں پانچ وقت کی اور جمعہ کی نماز بھی ہوتی رہی۔
1920ء کے بعد کچھ سال ایسے گزرے کہ ہندو مسلمان میں تحریکِ خلافت اور نان کوآپریشن کی بدولت میل میلاپ ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہندوستانی اب دو بھائیوں کی طرح ایک قوم بن کر زندگی گزاریں گے، مگر کچھ دن بعد سنگٹھن اور شُدّھی کی تحریک چلی تو ہندو مسلمان دونوں میں بڑا اختلاف ہو گیا اور جبراً فسادات رونما ہوئے اور جیسا کہ شروع میں ہوا تھا، اس موقع پر بھی فسادیوں نے بابری مسجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، مسجد کے کچھ حصے کو نقصان بھی پہنچایا، مگر حکومت کی خرچ سے اس کی مرمت کی گئی اور پھر یو پی مسلم ایکٹ 1936ء کے مطابق یہ مسجد یو پی سُنی سینٹرل بورڈ وقف رجسٹر کر لی گئی۔
22-23 ستمبر 1949ء کی درمیانی رات کو ہنومان گڑھی کا ایک مہنت اَبھیرام داس اپنے چیلوں کے ساتھ مسجد کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوا اور محراب میں مورتی رکھ دی۔ بابری مسجد سے متصل قبروں کو اجتماعی طور پر کھودا گیا اور ان قبروں کی جگہ ایک چبوترا بنا لیا گیا۔ اس کے بعد 9 دن تک رامائن کا پاٹھ ہوتا رہا اور بھجن بھنڈار بہت دنوں تک ہوتے رہے۔ بڑی بڑی سبھائیں ہوتی رہیں، تانگوں اور موٹر پر لاؤڈ سپیکر کے ذریعے یہ اعلان کروایا گیا کہ رام چندر جی کی پیدائش کی جگہ کو واپس لیا جا رہا ہے۔ میتھو پرساد ایک کانسٹیبل وہاں تعینات تھا، اس نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی کہ ابھیرام داس اور اس کے ساتھ 50-60 نامعلوم آدمیوں نے مسجد کے اندر جا کر مورتی رکھ دی ہے۔ اس رپورٹ پر فیض آباد کے سٹی مجسٹریٹ نے مسجد کو سرکار کے قبضے میں لیتے ہوئے دفعہ 145 کے تحت پہلی بار مسجد میں تالا لگا دیا۔
پھر یہ فریقین کے نام نوٹس جاری کر دی کہ اپنے اپنے دعوے کے سلسلے میں ثبوت پیش کریں۔ یہ نوٹس 16 جنوری 1950ء کو جاری ہوا، اس کے ساتھ سٹی مجسٹریٹ نے جائے وقوعہ پر فیض آباد میونسپل کارپوریشن کے صدر کو ریسیور مقرر کر دیا جس کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہاں پر نہ پوجا ہو اور نہ ہی نماز پڑھی جائے۔ اس سلسلے میں مہاتما گاندھی کے ساتھ رہنے والے شری اکشے کمار برہمچاری اپنے اس خط میں لکھتے ہیں جو انہوں نے اس وقت کے یو پی کے ہوم منسٹر لال بہادر شاستری کو لکھا تھا کہ دفعہ 144 کے باوجود سرکاری اجازت کے بغیر ہندوؤں کے بڑے بڑے جلوس نکلتے رہے، جلسے ہوتے رہے، بابری مسجد میں پوجا پاٹھ جاری رہی۔ دفعہ 144 کی پابندی صرف مسلمانوں کے لیے تھی، جس کی وجہ سے وہ بابری مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیے گئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس سے پہلے کفر، قتل و غارت گری اور فسادات فیض آباد میں ہو چکے ہیں، جن میں مسلمانوں کو جان و مال کا نقصان برداشت کرنے پڑے ہیں، لیکن گورنمنٹ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی.
گزشتہ بقر عید کے موقع پر جس طرح مسلمانوں کے مکان لوٹے اور جلائے گئے اور انہیں پیٹا گیا اور عورتوں اور بچوں پر وحشیانہ طریقے سے حملے کر کے گھائل کیا گیا، حکومت کو یہ سب کچھ معلوم تھا، لیکن افسوس ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے شرارت پسند لوگوں کی ہمت بڑھتی گئی اور مسلمان اپنے آنسو پی کر خاموشی اختیار کرنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ شری اکشے کمار برہمچاری خط میں آگے لکھتے ہیں کہ آج ایودھیا میں مسلمانوں میں بہت زیادہ خوف و ہراس طاری ہے اور ان میں سے بہت سارے لوگوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیج دیا ہے اور کچھ لوگ اپنے خاندان سمیت ہجرت وطن کر چکے ہیں۔ ایودھیا کے مسلمانوں پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اعلان کریں کہ بابری مسجد ہندوؤں کا مندر ہے۔
یکم جون 1950ء کو بابری مسجد کیس کے سلسلے میں فیض آباد کے ایس پی کرپال سنگھ نے اپنا جواب داخل کرایا، جس میں انہوں نے کورٹ کو صاف لفظوں میں بتایا کہ یہ زمانہ سے بابری مسجد ہے اور اس میں ہمیشہ سے مسلمان نماز پڑھتے آئے ہیں۔ ہندوؤں کا اس سے کوئی واسطہ اور سروکار نہیں ہے۔ 24 اپریل 1950ء کو فیض آباد کے ڈپٹی کمشنر نے فیض آباد کی سول جج کی عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کیا، جس میں انہوں نے بہت ساری چیزوں سے پردہ اٹھانے کے بعد بتایا کہ یہ ہمیشہ سے مسجد رہی ہے، یہاں پر مندر کبھی تھا ہی نہیں۔ لیکن فاضل جج نے ان سرکاری بیانات کو نظرانداز کر دیا اور اپنے فیصلے میں یہ ظاہر کیا کہ اس مسجد میں پوجا ہوتی رہی ہے، اس لیے کہ وہاں مورتیاں موجود ہیں، حالانکہ سرکاری بیانات سے ثابت ہو چکا تھا کہ مورتیاں تو 22-23 ستمبر 1949ء کی درمیانی رات کو مسجد میں رکھی گئی تھیں اور اسی بنا پر دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔
25 جنوری 1986ء میں رمیش چندر پانڈے نے فیض آباد کے صدر مُنصِف کی یہاں ایک درخواست دی کہ مسجد کا تالا کھول دیا جائے تاکہ ہندو وہاں جا کر پوجا پاٹھ کر سکیں، مگر ان سے صدر نے یہ کہہ کر درخواست رد کر دی کہ اس مقدمے کے رہنما فائل ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف فیض آباد کے ضلع جج مسٹر کے ایم پانڈے کی عدالت میں اپیل کی گئی، انہوں نے یکم فروری 1986ء کو یہ فیصلہ سنایا کہ ضلع اس مسجد کا تالا کھول دے اور ہندوؤں کو وہاں پوجا پاٹھ کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ بابری مسجد کا تالا کھول دیا گیا تو ہزاروں ہندو پوجا پاٹھ کے لیے مسجد میں داخل ہو گئے، یہ منظر ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔ پوری ریاست میں ہندوؤں نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں نے اپنے گھروں میں غم میں سیاہ جھنڈے لہرائے۔
بابری مسجد کو مندر بنا دینے پر پورے ملک میں مسلمانوں میں بڑی بے چینی پیدا ہوئی۔ 30 اپریل 1986ء کو یومِ احتجاج منایا گیا تو ہزاروں کی تعداد میں مسلمان گھروں سے جیل جانے کے لیے نکل پڑے۔ بارہ بنکی میں مسلمانوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان خون ریز فساد ہوا جس میں 14 افراد گولیوں کا نشانہ بنے۔ یو پی حکومت کی طرف سے یہ بیان شائع ہوا کہ فروری سے اگست 1986ء تک ریاست میں بابری کے سلسلے میں 45 ہندو مسلم دنگے ہوئے، یہ بیان بی بی سی سے بھی براڈکاسٹ ہوا۔
پھر 1989ء کو وشو ہندو پریشد نے مسجد سے مُلْحَقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھی۔ 1990ء کو وشو ہندو پریشد کو دوسری طور پر نقصان پہنچا یا 1991ء کو ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی۔ 6 دسمبر 1992ء کو وشو ہندو پریشد نے بابری مسجد کو شہید کر دیا جس کے نتیجے میں ہندو مسلم فسادات ہوئے تو 3000 افراد ہلاک ہوئے۔
اب ظاہری طور پر مسجد کا کوئی نام و نشان نہیں تھا لیکن مسلمان اپنا مقدمہ عدالت میں کرتے رہے اور اپریل 2002ء کو مسجد کی زمین کی ملکیت کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ جنوری 2003ء کو عدالت نے آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو یہ حکم دیا کہ وہ مسجد کی جگہ کا جائزہ لیں۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے اپنی جانچ شروع کر دی۔ اگست 2003ء کو ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ مسجد کے نیچے مندر کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ ستمبر 2003ء کو عدالت کی طرف سے بابری مسجد کے انہدام پر اکسانے کے الزام میں سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ اکتوبر 2003ء کو مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اکتوبر 2010ء کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی زیادہ تر زمین ہندوؤں کے دو فریقوں کو دے دی، تاہم سُنی وقف بورڈ کے لیے مسجد کی زمین کے ایک تہائی حصے پر مسجد کی تعمیر کی گنجائش رکھی۔ 10 نومبر 2019ء کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں تمام شواہد قبول کر لیے پھر بھی ہندوستانی جمہوریت سے انکار کرتے ہوئے بابری مسجد کی سرزمین کو عقیدے کی بنیاد پر ہندوؤں کے حوالے کر دیا گیا۔ 5 اگست 2020ء کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں رام مندر کے لیے سنگِ بنیاد رکھا گیا۔
اسطرح ایک بار پھر” فیصلہ تو ہوا لیکن انصاف نہیں”










